سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-69 Fatwa no: 1447-69

پہاڑ میں سفر شرعی کی مقدار

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: زید کا کہنا ہےکہ سفر شرعی کی مقداریہ ہے کہ تین دن میں صبح صادق سے لیکر زوال تک جتنی مسافت طے کریں ،جو کہ "78کلومیٹر"بنتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی پہاڑی میں سفر کرے اورتین دن کے اندر مسافت "60کلومیٹر"بنتے ہیں،توآیایہ شخص نماز قصر پڑھے گا یا نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ مسافت قصر میں صحیح قول کے مطابق فرسخ، میل یا کلو میٹر کے ساتھ تقدیر نہیں کی گئی ہے یہ صرف لوگوں کی آسانی کیلئے محققین نے اندازہ لگا کر بیان کیا ہےجب کہ اصل میں متوسط رفتار کیساتھ پیادہ یا اونٹ کی رفتار شرعا معتبر ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں شخص مذکورپہاڑی سفر کے مطابق"60کلو میٹر"پر نماز قصر پڑھےگا ؛ کیونکہ مذکورہ سفرکی مسافت تین دن کے بقدربنتی ہےاگر چہ "78کلو میٹر"سے کم "60کلومیٹر"ہے ۔
كما في الهنديه:
والمعتبر في البحر ثلاثة أيام في ريحمستوية غير غالبة ولا ساكنة كما في الجبل يعتبر فيه أيضا ثلاثة أيام وإن كان في السهل تقطع في أقل منها ولو كانت المسافة ثلاثا بالسير المعتاد فسار إليها على الفرس جريا حثيثا فوصل في يومين أو أقل قصر، كذا في الجوهرة النيرة.
(الباب الخامس عشرفي صلاةالمسافر،ج1،ص295،ط:مكتبه رشيديه)
وفي المحيط البرهاني:
قال علماءنا رحمهم الله:أدناهاسيرةثلاثةأيام ولياليها إلي قوله.....وإن كان السفر سفر جبال،فعبارة بعض مشايخنا:أن التقديربمسيرةثلاثةأيام ولياليها علي حسب ما يليق بحال الجبل.
(ألفصل الثاني والعشرون في صلاة السفر، ج2، ص385، ط:إدارةالقرآن والعلوم الإسلاميه)
وفي الهداية:
ولا يعتبر في السير في الماءمعناه لا يعتبر به السير في البر فأما المعتبر في البحر فما يليق بحاله كما في الجبل.
قوله:(كما في الجبل)فإنه يعتبرفيه ثلاثة أيام ولياليهافي السيرفي الجبل وإن كانت تلك المسافةتقطع بما دونها.
(باب صلاة المسافر، ج1، ص174،ط: مكتبة الحسن)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 18 May 2026

واللہ اعلم بالصواب