نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں چونکہ کرایہ پر دی ہوئی چیز مالک کی ملکیت ہے اورمالک کو اپنی ملکیت میں کسی بھی قسم کے تصرف کاحق حاصل ہے اس لیے کرایے کی مدت کے دوران اس کی کی ہوئی بیع درست ہو گی ، البتہ اجارہ کی وجہ سے کرایہ دار کا اس کے ساتھ منفعت حاصل کرنے کا حق متعلق ہے ؛ لہذا اگر کرایہ دار اس بیع پر راضی ہو تو وہ شیء مشتری کے حوالہ کی جائے گی اس صورت میں کرایے دار کو اجارہ فسخ کرنے کا اختیار ہوگا اور اگر وه راضی نہ ہو تو خریدار کو چاہئے کہ مدت اجارہ کے ختم ہونے کا انتظار کرے، کرایہ دار سے زبردستی اس کے چھوڑنے کا مطالبہ درست نہیں ، تاہم اس صورت میں مشتری کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہوگا ، البتہ اگر دونوں یعنی موجر اور مستاجر یہ معاہدہ کرلیں کہ اجارہ ختم کرنے کی صورت میں ایک دوسرے کو ایک مہینہ پہلے نوٹس دیں گے،تو نوٹس دینے کے بعدمدت اجارہ پورا ہونے سے پہلے بھی کرایے پر دی ہوئی چیز کا واپس لینا جائز ہے ۔
كما في الفتاوي الهندية:
وإذا باع الآجر المستأجر بغير إذن المستأجر نفذ البيع في حق البائع والمشتري ولا ينفذ في حق المستأجر حتى لو سقط حق المستأجر يعمل ذلك البيع ولا يحتاج إلى تجديده وهو الصحيح هكذا في المحيط. وإن أجاز المستأجر البيع نفذ البيع في حق الكل ولكن لا ينزع العين من يد المستأجر إلى أن يصل إليه ماله، وإن رضي بالبيع فاعتبر رضاه بالبيع لفسخ الإجارة لا للانتزاع من يده.
(ج:4،ص:465، ط:دار الفكر)
وفيه ايضا:
بعث صبيه إلى معلم وبعث إليه أشياء كثيرة فعلم شهرا فغاب هل لأبي الصبي أن يأخذ ما أعطاه قال لو بعث ذلك لأجل الأجرة فما يكون فاضلا عن أجرة الشهر يأخذ. كذا في التتارخانية
(في مسائل الشيوع ،ص:449،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي شرح الطحاوي للجصاص:
قال أبو جعفر: (ومن أجر داره، ثم باعها قبل انقضاء مدة الإجارة، فإن أبا حنيفة قال: للمستأجر منع المشتري منها، ونقض البيع عليه فيها، فإن نقضه كان منتقضا، ولم يعد بعد ذلك.قال: وروى محمد عن أبي حنيفة: أنه ليس للمستأجر نقض البيع، ولكنه إن أجاز البيع كان له في ذلك إبطال ما بقي من الإجارة..... ورواية محمد هي الصحيحة، فإن أجاز المستأجر البيع، فقد رضي بفسخ الإجارة، وإن لم يرض: كان للمشتري أن يفسخ البيع، لتعذر التسليم فی الحال.
(ج:3، ص:402،ط:دار السراج)
وفي تيين الحقائق:
لِأَنَّ تَبَدُّلَ الْمِلْكِ يُوجِبُ تَبَدُّلَ الْعَيْنِ حُكْمًا فَصَارَتْ كَأَنَّهَا تَبَدَّلَتْ حَقِيقَةً أَصْلُهُ حَدِيثُ بَرِيرَةَ أَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «قَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»
(السرقة،ص: 219،ج:3،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفي الفقه الاسلامي:
ومنع النبي من الضرر في الحديث المتقدم: «لا ضرر ولا ضرار» ولا سبيل إلى رفع الضرر بعد وقوعه إلا بإيجاب الضمان أو التعويض.
ومجال هذه القاعدة هو الضرر الناشئ عن الخطأ في استعمال الحق، سواء أكان هذا الحق ثابتاً بإذن الشارع، أم بالعقد أم بغيرهما من مصادر الحق؛ لأن استعمال الحقوق مقيد بشرط
السلامة كما يقرر الفقهاء (1)، ولأن أموال الناس ودماءهم معصومة لا تهدر بحال، فيجب ضمانها وتعويض الضرر الواقع عليها.
(استعمال الحق مع الإهمال أو الخطأ،ص:2872،ج:4،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔