سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-690 Fatwa no: 1448-690

ماہانہ پانچ ہزار جمع کروا کر قرعہ اندازی سے موٹر سائیکل لینے حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہاں پر بعض آدمی ہیں کہ مہینے کاپانچ ہزار روپے ڈالتے ہیں اور پھر اسی پیسوں سے موٹر سائیکل لیتے ہیں اور قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا نام نکلے موٹر سائیکل اس کو دیتے ہیں آئندہ ماہ پھر اس طرح کرتے ہیں کیا یہ کام صحیح ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ  کے صحیح  ہونے کے لیے  چند  شرائط کا ہونا ضروری  ہے۔
1:قرعہ اندازی میں حصہ لینے والےممبران کے لئے یہ شرط نہ لگائی جائے کہ وہ اپنی دی ہوئی رقم واپس نہیں لے سکتے ،بلکہ ہر ممبر کو اس بات کا پورا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی مرحلہ پر اس  سے دستبردار ہوکر اپنی اصلی رقم واپس لے سکتا ہے کیونکہ   کمیٹی میں دی ہوئی رقم کی حیثیت  قرض کی ہوتی ہے اور قرض دینے  کے معاملہ میں کسی کو مجبور کرنا شرعاً جائز نہیں۔
2: تمام ممبران  ایک جتنی رقم جمع کرائیں،کسی ممبر سے دوسرے کی نسبت کم یا زیادہ رقم نہ لی جائے اور ایسے ہی قرعہ اندازی میں نام آنے والے تمام  ممبران کو ایک ہی  جتنی رقم   کا موٹر سائیکل دیا جائےیہ نہ ہو کہ موٹر سائیکل لینے یا دینے میں بعض ممبران  کے ساتھ امتیازی معاملہ کیا جائے۔
3:تمام ممبران  آخر تک(یعنی سب کو اپنی دی ہوئی تمام رقم مل جائے چاہے موٹر سائیکل  کی صورت میں ہو) شریک رہیں،یہ نہ ہو کہ کوئی ممبر اپنا نام نکلنے پر مو ٹر سائیکل لیکر  باقی قسطوں سے بری ہوجائے،تاہم  جو ممبر  اپنی باری پرموٹر سائیکل  لے چکا ہو اور پھر بعد میں کسی مجبوری کی وجہ سے متعین مدت سے پہلے سے  دستبردار ہونا چاہتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ  اس کی اپنی رقم کے علاوہ جتنی  رقم  دوسروں  کی موٹر سائیکل میں   باقی ہے اس  کو واپس کرے ۔
4: قرعہ اندازی میں جس ممبر کا نام نکل آئے اس کو بغیر  کسی عوض کے  موٹر سائيكل  حوالہ کیاجائے۔
لہذا مذکورہ صورت میں اگر  تمام شرائط موجود ہیں تو  یہ معاملہ کرنا جائز ہے ،وگرنہ جائز نہیں ۔
كما في الدر المختار:
الْقَرْضِ (هُوَ) لُغَةً: مَا تُعْطِيهِ لِتَتَقَاضَاهُ، وَشَرْعًا: مَا تُعْطِيهِ مِنْ مِثْلِيٍّ لِتَتَقَاضَاهُ وَهُوَ أَخْصَرُ مِنْ قَوْلِهِ (عَقْدٌ مَخْصُوصٌ) أَيْ بِلَفْظِ الْقَرْضِ وَنَحْوِهِ (يَرِدُ عَلَى دَفْعِ مَالٍ) بِمَنْزِلَةِ الْجِنْسِ (مِثْلِيٍّ) خَرَجَ الْقِيَمِيُّ (لِآخَرَ لِيَرُدَّ مِثْلَهُ) خَرَجَ نَحْوُ وَدِيعَةٍ وَهِبَةٍ.
(ج:5،ص:161،ط:دارالفكر)
وفي المبسوط:
وَإِنَّمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ الْقُرْعَةِ عِنْدَنَا فِيمَا يَجُوزُ الْفِعْلُ فِيهِ بِغَيْرِ الْقُرْعَةِ كَمَا فِي الْقِسْمَةِ
(باب لوجوه من العتق،ص:76،ج:7،ط: دار المعرفة)
وفي العناية:
وليس في " المبسوط " استعمال القرعة حرام في القياس، لأن في الإقراع تعليق الاستحقاق بخروج القارعة، وهو حرام، لأنه في معنى القمار والاستقسام بالأزلام التي كان يعتاده أهل الجاهلية، ولكنا تركناه استحسانا بالسنة والتعامل الظاهر من لدن رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ولأن هذا ليس في معنى القمار.
ونفي القمار أصل الاستحقاق يتعلق بما يستعمل فيه، وهاهنا أصل الاستحقاق فلا يتعلق بخروجها، لأن القاسم لو قال أنا عدل فخذ أنت هذا الجانب وأنت هذا الجانب كان مستقيما، إلا أنه مما يتهم في ذلك، فيستعمل القرعة لتطييب قلوب الشركاء وهي في تهمة الميل من نفسه وذلك جائز كما فعل يونس - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - في مثل هذا مع أصحاب السفينة لما علم أنه هو المقصود، ولكن أبقى نفسه في الماء بما ينسب إلى ما لا يليق بالأنبياء - عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -، فاستعملها لذلك.
وكذلك زكريا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - استعمل القرعة في ضم مريم - عَلَيْهَا السَّلَامُ -، مع أنه كان أحق بها لمكان خالتها عنده، وكان رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يقرع بين نسائه إذا أراد سفرا تطييبا لقلوبهن،
(ولا يدخل في القسمة الدراهم والدنانير،ص:433،ج:11،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الفقه الإسلامي:
حكم القرض: يثبت الملك في القرض عند أبي حنيفة ومحمد بالقبض، فلو اقترض إنسان مدّ حنطة وقبضه، فله الاحتفاظ به، ورد مثله وإن طلب المقرض رد العين، لأنه خرج عن ملك المقرض، وثبت له في ذمة المقترض مثله لا عينه، ولو كان قائماً.
(حكم القرض،ص:513،515،ج:4،ط:رشيدية)
وفي مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
القرض هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لرد مثله وصح في مثلي لا في غيره فصح استقراض الدراهم والدنانير.
(ج:3،ص:118،ط:دارالكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026