سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-691 Fatwa no: 1448-691

متعین مقدار میں پٹرول خریدنے پر قرعہ اندازی میں موٹر سائیکل کا انعام

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک پٹرول پمپ والوں نے یہ سکیم نكالی ہے کہ اگر کوئی شخص ہم سے ایک دفعہ میں پندرہ سو روپے کا پٹرول خریدتا ہے تو ہم ان کو ایک ٹوکن دیتے ہیں پهر ان ٹوكن كی تقریباً ایک مہینے کے بعد قرعہ اندازی ہوتی ہے قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے کو پٹرول پمپ والے موٹر سائیکل انعام میں دیتے ہیں، اور پٹرول پمپ والے جو پندرہ سو کا پٹرول دیتے ہیں اس میں کوئی کمی نہیں کرتے اور ٹوکن کے بدلے میں کوئی عوض بھی نہیں لیتے ہیں تو آیا اس طرح قرعہ اندازی میں موٹر سائیکل کا لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :

 بصورت مسئولہ  قرعہ اندازی میں حصہ لینا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے  
(1)  پٹرول پمپ  والوں نے  انعام کے ٹوکن  کے عوض کوئی اضافی رقم نہ لی ہو
(2) خریدنے والے کا مقصد  پٹرول خریدنا ہو  انعام  والے ٹوکن کا خریدنا مقصود نہ ہو
لہذا اگر مذکورہ صورت دونو ں شرائط موجود ہیں تو  ان    شرائط کے ساتھ   قرعہ اندازی میں  حصہ لینا اور اس پرملنے والے موٹر سائیکل کا لینا درست ہے بصورت دیگر نہیں ۔
کمافي بحوث في قضايا في فقهية معاصرة:
الجائزة التي تمنح علي اساس التزام او وعد سابق:...ومن شروط جوازه:ان يكون تبرعا محضا من قبل المجيز،وان لا يشترط علي المجاز ان يدفع عوضا عن الدخول في المخاطرة؛لانه ان اشترط عليه ذلك دخل في عقود المعاوضةالتي يحرم فيها الغرر والمخاظرة
(احكام الجوائز،ص:156،ج:2،ط:معارف القرآن)
وفيه ايضا:
وان النوع الاول من هذه الجوائز غالبا ما تمنح علی اساس القرعة ونحوها......وان حكم مثل هذه الجوائز انها تجوز بشروط: ...ان يقع شراء البضاعة بثمن مثله،ولا يزاد في ثمن البضاعة من اجل احتمال الحصول علی الجوائز... ان يكون المشتري يقصد شراء المنتج للانتفاع به ولا يشتريه لمجرد مايتوقع من الحصول علی الجائزة
(احكام الجوائز،ص:159،ج:2،ط:معارف القرآن)
وفي البحر الرائق:
لَا يَجُوزُ لِمَا فِيهِ مِنْ تَعْلِيقِ الْمِلْكِ عَلَى الْخَطَرِ    
(مسائل في المسابقة والقمار،ص:554،ج:8،ط: دار الكتاب الإسلامي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026