سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-692 Fatwa no: 1448-692

مثل اول کے بعد عصر کی نماز پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں عصر کے وقت غیر مقلدین کی اذان کے بعد اکثر دیوبندی عورتیں گھروں میں نماز ادا کرلیتی ہیں حالانکہ ابھی تک دیوبندیوں کی مساجد میں اذان نہیں ہوئی ہو تی ،تو اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
جواب :

عصر کی نماز کے وقت کے بارے میں  احناف کے دو قول ہیں :
(1):  امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک   مثلین (یعنی زوال کے بعد جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو جائے )  کے بعد عصر کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے 
(2): صاحبینؒ کے نزدیک  ایک مثل کے بعد  عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے ۔
لیکن احوط اور مفتی بہ  قول  یہی ہے کہ  عصر مثلین کے بعد  پڑھی جائے 
لہذا صورت مسئولہ   میں  عورتوں کو چاہیے کہ وہ  ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو جانے (جس وقت دیوبندیوں کی مساجد میں اذان ہوتی ہے  اس ) کے بعد عصر کی نماز  ادا کریں   ،بغیر عذر  کے غیر مفتی بہ  قول پر عمل کرنا درست نہ ہو گا۔
كما في الدرالمختار:
(وَوَقْتُ الظُّهْرِ مِنْ زَوَالِهِ) أَيْ مَيْلِ ذُكَاءَ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ (إلَى بُلُوغِ الظِّلِّ مِثْلَيْهِ) وَعَنْهُ مِثْلَهُ، وَهُوَ قَوْلُهُمَا وَزُفَرَ وَالْأَئِمَّةِ الثَّلَاثَةِ. قَالَ الْإِمَامُ الطَّحَاوِيُّ: وَبِهِ نَأْخُذُ. وَفِي غُرَرِ الْأَذْكَارِ: وَهُوَ الْمَأْخُوذُ بِهِ. وَفِي الْبُرْهَانِ: وَهُوَ الْأَظْهَرُ. لِبَيَانِ جِبْرِيلَ. وَهُوَ نَصٌّ فِي الْبَابِ. وَفِي الْفَيْضِ: وَعَلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ الْيَوْمَ وَبِهِ يُفْتَى
(قَوْلُهُ: إلَى بُلُوغِ الظِّلِّ مِثْلَيْهِ) هَذَا ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنْ الْإِمَامِ نِهَايَةٌ، وَهُوَ الصَّحِيحُ بَدَائِعُ وَمُحِيطٌ وَيَنَابِيعُ، وَهُوَ الْمُخْتَارُ غِيَاثِيَّةٌ
(قَوْلُهُ: وَعَلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ الْيَوْمَ) أَيْ فِي كَثِيرٍ مِنْ الْبِلَادِ، وَالْأَحْسَنُ مَا فِي السِّرَاجِ عَنْ شَيْخِ الْإِسْلَامِ أَنَّ الِاحْتِيَاطَ أَنْ لَا يُؤَخِّرَ الظُّهْرَ إلَى الْمِثْلِ، وَأَنْ لَا يُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى يَبْلُغَ الْمِثْلَيْنِ لِيَكُونَ مُؤَدِّيًا لِلصَّلَاتَيْنِ فِي وَقْتِهِمَا بِالْإِجْمَاعِ،
(كتاب الصلاة،ص:359،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
 وقت الظهر: من زوال الشمس إلى مصير ظل كل شيء مثله، سوى ظل أو فيء الزوال. وهذا رأي الصاحبين المفتى به عند الحنفية والأئمة الثلاثة. وظاهر الرواية وهو رأي أبي حنيفة: أن آخر وقت الظهر: أن يصير ظل كل شيء مِثْليْه، إلا أن هذا الوقت هو وقت العصر بالاتفاق، فتقدم الصلاة عن هذا الوقت؛ لأن الأخذ بالاحتياط في باب العبادات أولى
(وقت الظهر،ص:665،ج:1،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026