نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں بصورت مسئولہ مدرسے کے اکاؤنٹ میں زکوۃ کی رقم شامل کرنے سے زکوۃ ذمہ سے ساقط نہیں ہو گی ، بلکہ زکوۃ کی ادائیگی کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ آپ مستحق طلباء کو اپنی زکوۃ کا مالک بنا دیں اورپھر طلباء پر مناسب فیس لازم کر دیں اس وجہ سےایک تو آپ کی زکوۃ ادا ہوجائیگی اور دوسری طرف طلباء میں خرچ کرنے کی صفت پیدا ہوگی پھر آپ اس رقم کو مدرسے کے اکاؤنٹ میں موجود دوسرے پیسوں سے ملا کر طلباء کرام پر اور مدرسے کی ضروریات میں استعمال (چاہے وہ رقم سال کے دوران آہستہ آہستہ کر کے استعمال ہو یا سال بھر نہ ہو)کرسکتے ہیں ۔
كما في الدرالمختار:
وَلَا يَخْرُجُ عَنْ الْعُهْدَةِ بِالْعَزْلِ بَلْ بِالْأَدَاءِ لِلْفُقَرَاءِ
(كتاب الزكاة،ص:270،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع.... إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها
(كتاب الزكاة،ص:170،190،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
وعلى إدارة الجمعيات أن يحصلوا على تفويض أو توكيل من طلاب العلم، بصرف أموال الزكاة على حوائجهم من طعام وشراب وكتب وأوراق ونحو ذلك، لأن تمليك الزكاة للمستحقين شرط أساسي، ثم يتصرف المستحق بما يحقق مصلحته.
(مقدار الزكاة،ص:1822،ج:3،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔