سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-694 Fatwa no: 1448-694

مدرسے کے اکاؤنٹ میں زکوٰۃ جمع کرنے سے زکوٰۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ میں نے زکوۃ ادا کرنی ہے اگر میں زکوۃ کی رقم اپنے مدرسے کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دو اور پھر وہ پیسے جو مدرسے کے اکاؤنٹ میں موجود ہیں ان کے ساتھ اپنی زکوۃ کی رقم ملا کر اس کو آگے بچوں پر اور ان کی ضروریات وغیرہ پر خرچ کروں تو کیا اس طرح میری زکوۃ ادا ہو جائے گی ،نیز یہ لازم نہیں ہے کہ پوری رقم ابھی خرچ ہوجائے بلکہ ہو سکتا ہے سال کے دوران میں خرچ ہو یا سال میں بھی خرچ نہ ہو تو آیا میری زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
جواب :

 بصورت مسئولہ  مدرسے کے اکاؤنٹ میں زکوۃ کی رقم شامل کرنے سے زکوۃ ذمہ سے ساقط نہیں ہو گی  ، بلکہ زکوۃ کی ادائیگی کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی  ہے کہ آپ  مستحق طلباء  کو اپنی زکوۃ کا مالک بنا دیں    اورپھر  طلباء پر مناسب فیس لازم کر دیں  اس وجہ سےایک تو  آپ کی زکوۃ ادا ہوجائیگی  اور دوسری  طرف  طلباء  میں خرچ کرنے کی صفت  پیدا ہوگی پھر آپ اس رقم کو  مدرسے کے اکاؤنٹ میں   موجود دوسرے پیسوں سے  ملا کر طلباء کرام پر اور مدرسے  کی ضروریات  میں استعمال (چاہے   وہ رقم سال کے دوران  آہستہ آہستہ  کر کے  استعمال ہو یا سال بھر نہ ہو)کرسکتے ہیں ۔
كما في الدرالمختار:
وَلَا يَخْرُجُ عَنْ الْعُهْدَةِ بِالْعَزْلِ بَلْ بِالْأَدَاءِ لِلْفُقَرَاءِ
(كتاب الزكاة،ص:270،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع.... إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها
(كتاب الزكاة،ص:170،190،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
وعلى إدارة الجمعيات أن يحصلوا على تفويض أو توكيل من طلاب العلم، بصرف أموال الزكاة على حوائجهم من طعام وشراب وكتب وأوراق ونحو ذلك، لأن تمليك الزكاة للمستحقين شرط أساسي، ثم يتصرف المستحق بما يحقق مصلحته.
(مقدار الزكاة،ص:1822،ج:3،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026