سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-696 Fatwa no: 1448-696

مرد کا عورت سے اور عورت کا مرد سے علاج کروانا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کوئی زنانہ ماہرہ سے بیمار مرد علاج کروا سکتا ہے مثلاًچیک اپ ،انجکشن ،ڈراپ ،فزیو تھراپی، اینجو تھراپی وغیرہ ،اسی طرح زنانہ مریضہ مرد ماہر سے علاج ومعالجہ کروا سکتی ہے؟
جواب :

شرعی تعلیمات کے مطابق   مرد کا عورت سے اور عورت کا مردسے بلاعذر شدید  علاج کروانا  درست نہیں ہے ، البتہ  ضرورت کے وقت (جب مرد کے لیے مرد ڈاکٹر اور عورت کے لیے لیڈی ڈاکٹر میسر نہ ہو تو)  مردکوعورت سے اور عورت کومرد سے علاج کروانے کی گنجائش ہے ، البتہ فزیو تھراپی میں   مریض کو چھونے یا مساج کی ضرورت ہوتی ہے ؛اس لیے   صرف  اضطراری  حالت میں ضرورت کے مطابق ہی  جسم کے حصے کو دیکھ کر مساج کی جائےاور صرف ضروری علاج تک محدود رہا جائے، اور اسی طرح   ڈراپ اورانجکشن دیتے وقت محتاط طریقے سے کام لیا جائے (جسم کے حصہ پرضرورت سے زیادہ نظر نہ ڈالی جائے)   اوراینجو تھراپی(دل کا مرض)  چونکہ یہ ایک پیچیدہ طبی عمل ہے، اس لیے اگر مرد کے لیے  مرد ڈاکٹر اور عورت کے لیے لیڈی ڈاکٹر دستیاب نہ ہوں تو اس وقت شرعی پردہ کی پابندی کرتے ہوئے  مرد کاعورت سے اور عورت کا  مرد سے علاج کروانا جائزہے،لیکن آج کل    تقریباً ہر جگہ مرد اورلیڈی ڈاکٹر دونوں با آسانی   میسر ہوجاتے ہیں ؛اس لیے  مرد کومرد ڈاکٹر اور عورت کولیڈی ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
وفي البحر الرائق:
وَالطَّبِيبُ إنَّمَا يَجُوزُ لَهُ ذَلِكَ إذَا لَمْ يُوجَدْ امْرَأَةٌ طَبِيبَةٌ فَلَوْ وُجِدَتْ فَلَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَنْظُرَ لِأَنَّ نَظَرَ الْجِنْسِ إلَى الْجِنْسِ أَخَفُّ وَيَنْبَغِي لِلطَّبِيبِ أَنْ يُعَلِّمَ امْرَأَةً إنْ أَمْكَنَ وَإِنْ لَمْ يُمْكِنْ سَتَرَ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهَا سِوَى مَوْضِعِ الْوَجَعِ ثُمَّ يَنْظُرُ وَيَغُضُّ بِبَصَرِهِ عَنْ غَيْرِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ إنْ اسْتَطَاعَ لِأَنَّ مَا ثَبَتَ لِلضَّرُورَةِ يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهَا
(لا ينظر من الشتهي،ص:218،ج:8، دار الكتاب الإسلامي)
وفي ملتقي الابحر:
وَيحرم النّظر إِلَى الْعَوْرَة إلاَّ عِنْد الضَّرُورَة كالطبيب، والخاتن والخافضة والقابلة والحاقن، وَلَا يتَجَاوَز قدر الضَّرُورَة..... وَلَا إِلَى الْحرَّة الْأَجْنَبِيَّة إلاّ إِلَى الْوَجْه وَالْكَفَّيْنِ إنْ أمنْ
(فصل في النظر والمس،ص:199،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)
وفي مجمع الانهر في شرح ملتقي الابحر:
كَالْمَسِّ (وَيَحْرُمُ النَّظَرُ إلَى الْعَوْرَةِ إلَّا عِنْدَ الضَّرُورَةِ كَالطَّبِيبِ) أَيْ لَهُ النَّظَرُ إلَى مَوْضِعِ النَّظَرِ ضَرُورَةً فَيُرَخَّصُ لَهُ إحْيَاءً لِحُقُوقِ النَّاسِ وَدَفْعًا لِحَاجَتِهِمْ.... وَيَنْبَغِي لِلطَّبِيبِ أَنْ يُعَلِّمَ امْرَأَةً إذَا كَانَ الْمَرِيضُ امْرَأَةً إنْ أَمْكَنَ؛ لِأَنَّ نَظَرَ الْجِنْسِ إلَى الْجِنْسِ أَخَفُّ وَإِنْ لَمْ يُمْكِنْ يَسْتُرُ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهَا سِوَى مَوْضِعِ الْمَرَضِ ثُمَّ يَنْظُرُ وَيَغُضُّ بَصَرَهُ عَنْ غَيْرِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ مَا اسْتَطَاعَ؛ لِأَنَّ مَا يَثْبُتُ لِلضَّرُورَةِ يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهَا.
(فَصَلِّ فِي بَيَان أَحْكَام النَّظَر وَنَحْوه،ص:538،ج:2،ط:دار إحياء التراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026