سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-697 Fatwa no: 1448-697

مزدور مہیا کرنے پر کمیشن لینے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے کمپنی کے ساتھ اس طرح ایگریمنٹ کیا ہے کہ کمپنی کہتی ہے کہ میرے لیے مزدور مہیا کرو میں تمہیں فی مزدور دس ہزار روپے دونگی ، کمپنی جو دس ہزار روپے ہمیں دیتی ہے (کچھ آپ رکھ لیں کچھ مزدور کودیں) اس میں سے ہم مزدور کے ساتھ اس طرح ایگریمنٹ کرتے ہیں کہ اگر آ پ کو کام کی ضرورت ہے تو فلاں کمپنی میں آپ کو آٹھ ہزار ماہانہ اجرت ملے گی جس پر وہ رضامندی کا اظہار کرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا دس ہزار میں سے کچھ رقم مزدور کو دے کر باقی رقم رکھ سکتے ہیں یا نہیں مثلاً آٹھ ہزار مزدور کو دے کر باقی دو ہزار کمیشن کے طور پر جائز ہے یا اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ؟ تنقیح: کمپنی کمیشن ا یجنٹ کو پہلی مرتبہ مزدور لانے پر فی مزدور دس ہزار روپے دیتی ہےاس کے بعد جب کمیشن ایجنٹ اور مزدور کے درمیان متعین اجرت پر ایگریمنٹ ہو جاتا ہے تو کمپنی مزدور کو اتنی رقم دیتی ہے جو کمیشن ایجنٹ اور مزدور کے درمیان مقرر ہو تی ہے اس سے زائد نہیں دیتی ہے ۔
جواب :

بصورت مسئولہ  کمپنی کو مزدور فراہم کرنے میں چونکہ   کمیشن ایجنٹ کی محنت لگتی  ہے اس لیے دس ہزار میں سےآٹھ ہزار مزدور کو دینے کے بعدباقی دو ہزار اس کے لیے کمیشن کے طور پر لینا جائز  ہے ، البتہ کمیشن ایجنٹ یہ رقم صرف  پہلی مرتبہ لے سکتا ہے اس کے بعد لیناجائز نہیں ۔
کما في الدرالمختار:
وَأَمَّا الدَّلَّالُ فَإِنْ بَاعَ الْعَيْنَ بِنَفْسِهِ بِإِذْنِ رَبِّهَا فَأُجْرَتُهُ عَلَى الْبَائِعِ وَإِنْ سَعَى بَيْنَهُمَا وَبَاعَ الْمَالِكُ بِنَفْسِهِ يُعْتَبَرُ الْعُرْفُ وَتَمَامُهُ فِي شَرْحِ الْوَهْبَانِيَّةِ.
(ظَهَرَ بَعْدَ نَقْدِ الصَّرَّافِ أَنَّ الدَّرَاهِمَ زُيُوفٌ،ص:560،ج:4،ط:دارلفكر)
وفيه ايضا:
قَالَ فِي التتارخانية: وَفِي الدَّلَّالِ وَالسِّمْسَارِ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَمَا تَوَاضَعُوا عَلَيْهِ أَنَّ فِي كُلِّ عَشَرَةِ دَنَانِيرَ كَذَا فَذَاكَ حَرَامٌ عَلَيْهِمْ. وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِ السِّمْسَارِ، فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ كَدُخُولِ الْحَمَّام
(مَطْلَبٌ فِي أُجْرَةِ الدَّلَّالِ،ص: 63،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
السمسرة: هي الوساطة بين البائع والمشتري لإجراء البيع. والسمسرة جائزة، والأجر الذي يأخذه السمسار حلال؛ لأنه أجر على عمل وجهد معقول
(من شروط صيغة البيع،ص:3326،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي مجمع الانهر شرح ملتقي البحر:
وأما أجرة السمسار والدلال فقال الزيلعي إن كانت مشروطة في العقد تضم وإلا فأكثرهم على عدم الضم في الأول ولا تضم أجرة الدلال بالإجماع
(مرابحة،ص:108،ج:3،ط:  دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026