سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-698 Fatwa no: 1448-698

مسجد میں بلاعذر کرسی پر بیٹھنے اور نماز میں کرسی کے استعمال کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مساجد میں معذور حضرات کیلئے کرسیاں رکھی ہوتی ہیں کئی تندرست حضرات جب جماعت میں ایک دو منٹ رہتے ہوں تو ان پر بیٹھ جاتے ہیں کیا یہ عمل مسجد کی بے ادبی میں آتا ہے، کچھ حضرات قرآن پاک کی تلاوت اس پر بیٹھ کر کرتے ہیں ، بلا عذر مسجد میں ان کا استعمال کیسا ہے جو شخص کرسی پر بیٹھ کے کر نماز ادا کرتا ہے وہ صف میں کہاں نماز ادا کرے درمیان میں بیٹھ سکتا ہے یا ایک طرف ہونا چاہے ؟
جواب :

بصورت مسئولہ  اگر تندرست حضرات کے کرسی پر بیٹھنے کی وجہ سے معذور حضرات کو تکلیف پہنچتی ہو(یعنی ان کے  بیٹھنے کے لیے کوئی کرسی خالی  نہ ہو ) تو ان کا اس طرح کرنا  اچھا نہیں ہے ،البتہ اگر ایسا نہ ہو تو ان کے بیٹھنے اورقرآن پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
نیز اگر  کرسی کا پچھلا پایا صف کی لکیر پر رکھا جائے  تو یہ صورت  بہتر ہے اگرچہ وہ آدمی دوسرے  لوگوں سے تھوڑاآگے ہوگا لیکن اس کی وجہ سے  پچھلی صف  پر  کوئی اثر نہیں پڑے گا ،بصورت دیگراگر کرسی کا پچھلا پایا دوسری صف میں ہوگا تو  پچھلی صف میں معذور کے پیچھے  کی جگہ خالی  رہے گی ،جبکہ صف میں خالی جگہ چھوڑنا مکروہ ہے ،تاہم کرسیوں پر عذر کی وجہ سے نماز پڑھنے والے   صف کے کناروں پر نماز پڑھیں۔
كمافي الهداية:
وإن قدر على القيام ولم يقدر على الركوع والسجود لم يلزمه القيام ويصلي قاعدا يومئ إيماء " لأن ركنية القيام للترسل به إلى السجدة لما فيها من نهاية التعظيم فإذا كان لا يتعقبه السجود لا يكون ركنا فيتخير والأفضل هو الإيماء قاعدا لأنه أشبه بالسجود
(صلاة المريض،ص:77،ج:1،ط: دار احياء التراث العربي)
وفي الفتاوی الهندية:
رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة لأن تعظيم القرآن والفقه واجب كذا في فتاوى قاضي.
( وفي الصلاة والتسبيح وقراءة القرآن،ص:94،ج:4،ط:رشيدية)
وفيه ايضا:
(الباب الخامس في آداب المسجد) لا بأس بنقش المسجد بالجص والساج وماء الذهب، والصرف إلى الفقراء أفضل، كذا في السراجية. وعليه الفتوى، وكره بعض مشايخنا النقوش على المحراب وحائط القبلة؛ لأن ذلك يشغل قلب المصلي، ..أن نقش الحيطان مكروه قل ذلك أو كثر، فأما نقش السقف فالقليل يرخص فيه والكثير مكروه، هكذا في المحيط...ويكره أن يطين المسجد بطين قد بل بماء نجس،....ويكره مد الرجلين إلى الكعبة في النوم وغيره عمدا، وكذلك إلى كتب الشريعة،...يكره أن تكون قبلة 
المسجد إلى المتوضأ،.....ويكره النوم والأكل فيه لغير المعتكف.... ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد،
(الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة،ص: 319،ج:5،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026