سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-699 Fatwa no: 1448-699

مسافر کا امام کو مقیم سمجھتے ہوئے اقامت کی نیت کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چند ساتھی سفر پر تھے واپسی پر ایک کا گھر راستے میں پڑتا تھا ؛اس وجہ سے قیام اس کے ساتھ کیا اس نے کہا کہ نماز راستے میں پڑھیں گے پھر جب ہم گھر سے نکلے تو قریب ہی مسجد میں اس نے ہمیں نماز پڑھائی،میں نے اقامت کی نیت کی یہ سمجھتے ہوئے کہ امام مقیم ہے ،لیکن اس نے سفر کی نماز پڑھائی اب میری نماز ہو گی یا نہیں ؟ تنقیح: امام نے جس مسجد میں نماز پڑھائی وہ اس کے گاؤں کی حدود سے باہر تھی ؛اس وجہ سے سفر کی نماز پڑھائی۔
جواب :

 صورت مسئولہ میں مسافر مقتدی  کاامام کو مقیم سمجھتے ہوئے  اقامت کی نیت کرنے   سےاس کی نما ز میں کوئی  خرابی نہیں ہو گی؛کیونکہ تعداد رکعات  کی نیت میں غلطی کرنا نماز کے منافی نہیں ہےاور مقتدی پر    امام کے حال کا معلوم ہونا ابتداء  میں ضروری نہیں  ہے ،بلکہ  درمیان میں یا نماز کے متصل بعدبھی معلوم ہو نا صحت نماز کے لیے کافی ہے ؛اس لیے اس  کی  نمازامام کے پیچھے درست ہوگی۔
كما في الفتاوي التاتارْخانية:
 إذا اقتدى بإمام لا يدري أنه مقيم أو مسافر، قالوا: لا يصح اقتداؤه؛ لأن العلم بحال الإمام شرط أداء الصلاة بالجماعة، ورواية الكتاب تدل على أنه يصح الاقتداء بالإمام وإن لم يعرف بحاله أنه مسافر أو مقيم. قلت: تلك الرواية محمولة على ما إذا بنوا أمر الإمام على ظاهر حال الإقامة، والحال أنه ليس بمقيم وسلم على رأس الركعتين وتفرقوا على ذلك لاعتقادهم بفساد صلاة الإمام، وأما إذا علموا بعد الصلاة بحال الإمام كان اقتداؤهم جائزاً وإن لم يعلموا بحال وقت الاقتداء به. فإن أخبرهم قبل الشروع بأني مسافر فسلم على رأس الركعتين فقام جازت صلاتهم.
( كتاب الصلاة،ص:516،ج:2،ط:اعزازية)
وفي حاشية الطحاوي:
قوله ( ولا يشترط نية عدد الركعات ) لأن الفروض والواجبات محدودة فقصد التعيين يغني عنه حتى لو نوى انفجر أربعا مثلا لغت نية الأربع ويصلي ركعتين فقط لأن الخطأ فيما لا 
يشترط فيه التعيين لا يضر كما في الأشباه
(شروط الصلاة،ص:149،ج:1،ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)
وفي الدر المختار:
(وَنُدِبَ لِلْإِمَامِ) هَذَا يُخَالِفُ الْخَانِيَّةَ وَغَيْرَهَا أَنَّ الْعِلْمَ بِحَالِ الْإِمَامِ شَرْطٌ لَكِنْ فِي حَاشِيَةِ الْهِدَايَةِ لِلْهِنْدِيِّ الشَّرْطُ الْعِلْمُ بِحَالِهِ فِي الْجُمْلَةِ لَا فِي حَالِ الِابْتِدَاءِ.
 (قَوْلُهُ لَكِنْ إلَخْ) أَوْرَدَ ذَلِكَ سُؤَالًا فِي النِّهَايَةِ وَالسِّرَاجِ والتتارخانية ثُمَّ أَجَابُوا بِمَا يَرْجِعُ إلَى ذَلِكَ الْجَوَابِ. وَحَاصِلُهُ: تَسْلِيمُ اشْتِرَاطِ الْعِلْمِ بِحَالِ الْإِمَامِ وَلَكِنْ لَا يَلْزَمُ كَوْنُهُ فِي الِابْتِدَاءِ 
فَحَيْثُ لَمْ يَعْلَمُوا ابْتِدَاءً بِحَالِهِ كَانَ الْإِخْبَارُ مَنْدُوبًا وَحِينَئِذٍ فَلَا مُخَالَفَةَ فَافْهَمْ…. وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الْعِلْمُ بِحَالِ الْإِمَامِ إذَا صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ فِي مَوْضِعِ إقَامَةٍ وَإِلَّا فَلَا. 
(صلاة المسافر،ص:29،ج:2،ط:دار الفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
اتحاد صلاتي الإمام والمأموم:للفقهاء آراء في تحديد هذا الاتحاد، فقال الحنفية (1): الاتحاد أن يمكنه (أي المقتدي) الدخول في صلاة بنية صلاة الإمام، فتكون صلاة الإمام متضمنة لصلاة المقتدي. فلا يصلي المفترض خلف المتنفل؛ لأن الاقتداء بناء، ووصف الفرضية معدوم في حق الإمام، فلا يتحقق البناء على المعدوم،
(اتحاد صلاتي الإمام والمأموم،ص:1242،ج:2،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026