سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-700 Fatwa no: 1448-700

مسبوق کااپنی باقی رکعات میں واجب چھوڑنے کی وجہ سےسجدہ سہو کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسبوق آدمی اپنی باقی نماز ادا کرتے ہوئے اگر کوئی واجب سہواً ترک کر دے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا یا نہیں؟
جواب :

مسبوق(یعنی وہ شخص جس کی ایک  یا ایک سے زیا دہ رکعتیں جماعت سے رہ گئی ہوں ) اپنی  باقی رکعات کی ادئیگی میں منفرد( یعنی اکیلے  نماز پڑھنے والے شخص ) کی طرح ہے کہ منفرد سے اگر کوئی واجب  نماز میں غلطی سے رہ جائےتو اس پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ،لہذا صورت مسئولہ  میں  مسبوق سے اگر  اپنی باقی رکعات کی ادائیگی میں  کوئی واجب غلطی سے رہ جائے تو اس پر سجدہ سہولازم ہو گا،اگر اس نے سجدہ سہو نہ کیا تو اس پر نماز  لوٹانا واجب ہے۔
الفقه الاسلامي:
يسجد للسهو إن سها فيما يصليه مع الإمام، وفيما انفرد بقضائه،... وجب على المسبوق سجود السهو بعد قضاء ما فاته.
(انواع الصلاة،۱۲۳۸/۲،دارالفکر)
بدائع الصنائع:
وَأَمَّا الْمَسْبُوقُ إذَا سَهَا فِيمَا يَقْضِي وَجَبَ عَلَيْهِ السَّهْوُ؛ لِأَنَّهُ فِيمَا يَقْضِي بِمَنْزِلَةِ الْمُنْفَرِدِ،
(من يجب عليه سجود السهو،۱۷۵/۱،دار الكتب العلمية)
غنية المتملي:
(وان سها فيما يقضي) بعد فراغ الامام يسجد( ايضا)لانه منفرد،والمنفرد يجب ان يسجد لاجل سهوه
(فصل في السجود السهو،۴۶۶/رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026