نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ وکیل کے لیے مناسب نہیں ہے کہ مال حاصل کرنے کی غرض سے یہ طریقہ( یعنی مالدار شخص سے زکوۃ کی رقم مستحق کے لیے وصول کرے اور پھر اس مستحق سے کچھ مانگ لے)اختیار کرے ،البتہ اگر وکیل نے مستحق كو رقم پہنچادی تو (مالدار شخص کی )زکوۃ ادا ہو جائے گی ہے ،اور پھر اس کے بعد اگر مستحق اپنی خوشی سے اس کو کچھ رقم دے دے تو وکیل کے لیے اس رقم کے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
كما في الفتاوي الهندية:
الفصل الأول: في بيان جواز الحيل وعدم جوازها فنقول: مذهب علمائنا - رحمهم الله تعالى - أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة
(في بيان جواز الحيل وعدم جوازها،ص:389،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي الدرالمختار:
وَحِيلَةُ الْجَوَازِ أَنْ يُعْطِيَ مَدْيُونَهُ الْفَقِيرَ زَكَاتَهُ ثُمَّ يَأْخُذَهَا عَنْ دَيْنِهِ،
(الزكاة،ص:269، ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الهداية:
الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام تهادوا تحابوا وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك.
(كتاب الهبة،ج:3،ص:224،ط: المكتبة الإسلامية)
وفي عيون المسائل لسمرقندي:
ضمان الوكيل ما دفع إليه المتصدق
. ولو أن رجلاً دفع إلى رجل عشرة دراهم ليتصدق بها فانفقتا الوكيل ثم تصدق بغيرها فإنه لا يجزيه ويضمن العشرة.
(ضمان الوكيل ما دفع إليه المتصدق،ص:248،ج:1،ط: مطبعة أسعد)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔