سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-701 Fatwa no: 1448-701

زکوٰۃ کی رقم مستحق کو پہنچانے کے بعد وکیل کا اس سے کچھ رقم کا مطالبہ کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک مدرس ہوں، میری ماہانہ تنخواہ دس ہزار روپے ہے اور میں مقروض ہوں،قرض کی ادائیگی میرے لیے مشکل ہے،اگر میں کسی مالدار شخص سے کہوں:آپ فلاں مستحق (غریب) شخص کے لیے زکوٰۃ دیں، میں اس کو پہنچا دوں گا"،اور وہ شخص مجھے یہ کہہ کر زکوٰۃ دے دے کہ یہ رقم فلاں شخص کو زکوٰۃ کے طور پر دے دینا"،اور پھر میں وہ رقم اس مستحق کو دے دوں،تو کیا میرے لیے جائز ہوگا کہ میں اس مستحق سے کہوں:مجھے بھی اس رقم میں سے کچھ دے دو تاکہ میں اپنا قرض ادا کر سکوں ،اگر وہ خوشی سے مجھے کچھ رقم دے دے، تو کیا اس کا لینا شرعاً درست ہوگا یا نہیں؟
جواب :

بصورت مسئولہ    وکیل کے لیے مناسب نہیں  ہے  کہ مال حاصل کرنے کی غرض سے   یہ طریقہ( یعنی مالدار شخص سے زکوۃ کی رقم مستحق کے لیے وصول کرے اور پھر اس مستحق سے کچھ مانگ لے)اختیار کرے  ،البتہ اگر وکیل نے مستحق كو رقم پہنچادی تو (مالدار شخص کی )زکوۃ ادا ہو  جائے گی ہے  ،اور پھر اس کے  بعد اگر مستحق اپنی  خوشی سے  اس کو کچھ رقم دے دے تو وکیل کے لیے اس رقم کے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
كما في الفتاوي الهندية: 
الفصل الأول: في بيان جواز الحيل وعدم جوازها فنقول: مذهب علمائنا - رحمهم الله تعالى - أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة
(في بيان جواز الحيل وعدم جوازها،ص:389،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي الدرالمختار:
وَحِيلَةُ الْجَوَازِ أَنْ يُعْطِيَ مَدْيُونَهُ الْفَقِيرَ زَكَاتَهُ ثُمَّ يَأْخُذَهَا عَنْ دَيْنِهِ،
(الزكاة،ص:269، ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الهداية:
الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام تهادوا تحابوا وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك.
(كتاب الهبة،ج:3،ص:224،ط: المكتبة الإسلامية)
وفي عيون المسائل لسمرقندي:
ضمان الوكيل ما دفع إليه المتصدق
. ولو أن رجلاً دفع إلى رجل عشرة دراهم ليتصدق بها فانفقتا الوكيل ثم تصدق بغيرها فإنه لا يجزيه ويضمن العشرة.
(ضمان الوكيل ما دفع إليه المتصدق،ص:248،ج:1،ط: مطبعة أسعد)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026