سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-703 Fatwa no: 1448-703

مسجد کے بالائی منزل پر بیت الخلاء بنانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کے اوپر مشرقی جانب چھوٹی سی ایسی جگہ ہے جہاںاو پر سے نیچے تک کوئی مصلی نہیں ہے.بلکہ سیڑھیوں کی جگہ ہے،البتہ اسی جگہ پر نمازیوں کے رش ہونے کی صورت میں صرف نماز جمعہ میں نماز پڑھتے ہیں.اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے آیا اس جگہ پر ایک عدد واش روم بنا سکتے جبکہ واش روم کی اس جگہ پر اشد ضرورت ہے.؟
جواب :

بصورت مسئولہ  اگر  مذکورہ  سیڑھیوں سے لے کر اوپر   تک    کا حصہ نماز  کے لیے مختص نہیں ہے ،بلکہ وہ  مسجد  سے علیحدہ ہے تو اس صورت میں وہاں ضرورت کی وجہ سے بیت الخلاء بنانا جائز ہے ،بصورت دیگر بیت الخلاء بنانا جائزنہیں اگرچہ وہاں پنچ وقتہ نماز  ادا نہ کی جاتی ہو    ۔
كما في الفتاوي الهندية:
قيم المسجد لا يجوز له أن يبني حوانيت في حد المسجد أو في فنائه؛ لأن المسجد إذا جعل حانوتا ومسكنا تسقط حرمته وهذا لا يجوز، والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد،
(في الوقف وتصرف القيم، 462،ج:2،ط: دارالفكر)
وفي الدرالمختار:
لَوْ بَنَى فَوْقَهُ بَيْتًا لِلْإِمَامِ لَا يَضُرُّ لِأَنَّهُ مِنْ الْمَصَالِحِ، أَمَّا لَوْ تَمَّتْ الْمَسْجِدِيَّةُ ثُمَّ أَرَادَ الْبِنَاءَ مُنِعَ.... فَإِذَا كَانَ هَذَا فِي الْوَاقِفِ فَكَيْفَ بِغَيْرِهِ فَيَجِبُ هَدْمُهُ وَلَوْ عَلَى جِدَارِ الْمَسْجِدِ،
(فرع بناء بيت،ص:358،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
وَحَاصِلُهُ أَنَّ شَرْطَ كَوْنِهِ مَسْجِدًا أَنْ يَكُونَ سِفْلُهُ وَعُلُوُّهُ مَسْجِدًا لِيَنْقَطِعَ حَقُّ الْعَبْدِ عَنْهُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ}
وَلَا أَنْ يَجْعَلَ إلَخْ) ...أَنَّهُ لَوْ احْتَاجَ الْمَسْجِدُ إلَى نَفَقَةٍ تُؤَجَّرُ قِطْعَةٌ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا يُنْفَقُ عَلَيْهِ، بِأَنَّهُ غَيْرُ صَحِيحٍ. قُلْت: وَبِهَذَا عُلِمَ أَيْضًا حُرْمَةُ إحْدَاثِ الْخَلَوَاتِ فِي الْمَسَاجِدِ كَاَلَّتِي فِي رِوَاقِ الْمَسْجِدِ الْأُمَوِيِّ، وَلَا سِيَّمَا مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى ذَلِكَ مِنْ تَقْذِيرِ الْمَسْجِدِ بِسَبَبِ الطَّبْخِ وَالْغَسْلِ وَنَحْوِهِ .
(فَرْعٌ بِنَاء بيتا لِلْإِمَامِ فَوْق الْمَسْجِد،ص:358،ج:4،ط:دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026