نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ اگر مذکورہ سیڑھیوں سے لے کر اوپر تک کا حصہ نماز کے لیے مختص نہیں ہے ،بلکہ وہ مسجد سے علیحدہ ہے تو اس صورت میں وہاں ضرورت کی وجہ سے بیت الخلاء بنانا جائز ہے ،بصورت دیگر بیت الخلاء بنانا جائزنہیں اگرچہ وہاں پنچ وقتہ نماز ادا نہ کی جاتی ہو ۔
كما في الفتاوي الهندية:
قيم المسجد لا يجوز له أن يبني حوانيت في حد المسجد أو في فنائه؛ لأن المسجد إذا جعل حانوتا ومسكنا تسقط حرمته وهذا لا يجوز، والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد،
(في الوقف وتصرف القيم، 462،ج:2،ط: دارالفكر)
وفي الدرالمختار:
لَوْ بَنَى فَوْقَهُ بَيْتًا لِلْإِمَامِ لَا يَضُرُّ لِأَنَّهُ مِنْ الْمَصَالِحِ، أَمَّا لَوْ تَمَّتْ الْمَسْجِدِيَّةُ ثُمَّ أَرَادَ الْبِنَاءَ مُنِعَ.... فَإِذَا كَانَ هَذَا فِي الْوَاقِفِ فَكَيْفَ بِغَيْرِهِ فَيَجِبُ هَدْمُهُ وَلَوْ عَلَى جِدَارِ الْمَسْجِدِ،
(فرع بناء بيت،ص:358،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
وَحَاصِلُهُ أَنَّ شَرْطَ كَوْنِهِ مَسْجِدًا أَنْ يَكُونَ سِفْلُهُ وَعُلُوُّهُ مَسْجِدًا لِيَنْقَطِعَ حَقُّ الْعَبْدِ عَنْهُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ}
وَلَا أَنْ يَجْعَلَ إلَخْ) ...أَنَّهُ لَوْ احْتَاجَ الْمَسْجِدُ إلَى نَفَقَةٍ تُؤَجَّرُ قِطْعَةٌ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا يُنْفَقُ عَلَيْهِ، بِأَنَّهُ غَيْرُ صَحِيحٍ. قُلْت: وَبِهَذَا عُلِمَ أَيْضًا حُرْمَةُ إحْدَاثِ الْخَلَوَاتِ فِي الْمَسَاجِدِ كَاَلَّتِي فِي رِوَاقِ الْمَسْجِدِ الْأُمَوِيِّ، وَلَا سِيَّمَا مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى ذَلِكَ مِنْ تَقْذِيرِ الْمَسْجِدِ بِسَبَبِ الطَّبْخِ وَالْغَسْلِ وَنَحْوِهِ .
(فَرْعٌ بِنَاء بيتا لِلْإِمَامِ فَوْق الْمَسْجِد،ص:358،ج:4،ط:دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔