سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-704 Fatwa no: 1448-704

مسجد کے ساتھ متصل گھر کی چھت پر امام کی اقتدا ء کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں كہ گھر کی چھت اور مسجد کی چھت آپس میں جڑی ہوئی ہے مسجد کے اندر اگر امام صاحب نماز کی امامت کرا رہے ہیں تو ان کے پیچھے نماز میں ہم اپنے گھر کی چھت سے ہی شامل ہو سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب :

 واضح  رہے اقتدا ءصحیح  ہونے  کے لیے ضروری ہے کہ   امام اور مقتدی کا مکان متحد ہو خواہ حقیقتاً ہو یا حکماً ہو ، حقیقتاً  جیسے کہ امام اور مقتدی دونوں ایک  مسجد  میں کھڑے ہوں، اور حکماً  جیسےکہ امام اور مقتدی اگرچہ دو الگ الگ جگہوں میں کھڑے ہوں ،لیکن درمیان  میں صفیں متصل ہوں  ،صورت مسئولہ میں اگر   گھر اور   مسجد  کی چھت آپس میں جڑی ہوئی  ہیں  اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ بھی نہیں ہے  تو  گھر کی چھت  کو مسجد کے تابع کر کے  اس میں نماز کی اقتداء کرنا درست ہے ،بشرطیکہ صفوں میں اتصال پایا جائے اور امام  کی حالت اس پر  مشتبہ نہ ہو       ،اگر امام کی حالت  مشتبہ ہو  یا صفوں میں اتصال  نہ ہو تو  اقتدا کرنا درست نہیں   ۔
کمافي رد المحتار:
وَيُؤَيِّدُهُ مَا فِي الْبَدَائِعِ حَيْثُ قَالَ: لَوْ كَانَ عَلَى سَطْحٍ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ مُتَّصِلٍ بِهِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا طَرِيقٌ فَاقْتَدَى بِهِ صَحَّ اقْتِدَاؤُهُ عِنْدَنَا لِأَنَّهُ إذَا كَانَ مُتَّصِلًا بِهِ صَارَ تَبَعًا لِسَطْحِ الْمَسْجِدِ وَسَطْحُ الْمَسْجِدِ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ، فَهُوَ كَاقْتِدَائِهِ فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ إذَا كَانَ لَا يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ حَالُ الْإِمَامِ.
(باب الامامة،ص:587،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
وإن قام على سطح داره المتصل بالمسجد لا يصح اقتداؤه وإن كان لا يشتبه عليه حال الإمام. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة وهو الصحيح إلا إذا كان على رأس حائط المسجد. كذا في محيط السرخسي وإن قام على الجدار الذي بين داره وبين المسجد ولا يشتبه حال الإمام صح الاقتداء ولو قام على دكان خارج المسجد متصل بالمسجد يجوز الاقتداء لكن بشرط اتصال الصفوف.
( بيان مقام الامام والماموم،ص:88،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الدرالمختار:
(وَلَمْ يَخْتَلِفْ الْمَكَانُ) حَقِيقَةً كَمَسْجِدٍ وَبَيْتٍ فِي الْأَصَحِّ قُنْيَةٌ، وَلَا حُكْمًا عِنْدَ اتِّصَالِ الصُّفُوفِ؛ وَلَوْ اقْتَدَى مِنْ سَطْحِ دَارِهِ الْمُتَّصِلَةِ بِالْمَسْجِدِ لَمْ يَجُزْ لِاخْتِلَافِ الْمَكَانِ
(قَوْلُهُ عِنْدَ اتِّصَالِ الصُّفُوفِ) أَيْ فِي الطَّرِيقِ أَوْ عَلَى جِسْرِ النَّهْرِ، فَإِنَّهُ مَعَ وُجُودِ النَّهْرِ أَوْ الطَّرِيقِ يَخْتَلِفُ الْمَكَانُ، وَعِنْدَ اتِّصَالِ الصُّفُوفِ يَصِيرُ الْمَكَانُ وَاحِدًا حُكْمًا فَلَا يَمْنَعُ كَمَا مَرّ،
(الامامة،ص:587،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي درر الاحکام:
وَإِنْ قَامَ عَلَى سَطْحِ دَارِهِ، وَدَارُهُ مُتَّصِلَةٌ بِالْمَسْجِدِ لَا يَصِحُّ اقْتِدَاؤُهُ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَبِهْ عَلَيْهِ حَالُ الْإِمَامِ؛ لِأَنَّ بَيْنَ الْمَسْجِدِ وَبَيْنَ سَطْحِ دَارِهِ كَثِيرُ التَّخَلُّلِ فَصَارَ الْمَكَانُ مُخْتَلِفًا،
(جماعة النساء وحدهن،ص:92،ج:1،ط: دار إحياء الكتب العربية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026