سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-71 Fatwa no: 1447-71

پیشگی رقم لے کر بعد میں کم قیمت پر اشیاء دینے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: 
ہم چکن فیڈ میں استعمال ہونے والا پروٹین بناتے ہیں،اس کے لئے ہم مرغی کی دکان کا مرغی کا کچرا(مرغی کے گوشت کے علاوہ مرغی سے نکلنے والے چیزیں)خریدتے ہیں ،اس کے لئے سپلائر ہوتے ہیں جو دکانوں سے جمع کرکےہمیں بیچتے  ہیں ،اس کی دوشکلیں ہوتی ہیں ایک ایڈوانس رقم لےکر کام کرتے ہیں اور دوسری یہ کہ بغیر ایڈوانس جسے اوپن کہتے ہیں ،ایڈوانس لینے والوں کا ریٹ شروع ہی سے کم ہوتا ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ ریٹ کے لالچ میں اوپن پر کام شروع کرتے ہیں اور کچھ ہی مہینوں میں ایڈوانس کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں ،اب عام طور پر مارکیٹ والے ایڈوانس دےکر ریٹ کم دیتے ہیں ۔
اب ہمارے ہاں بھی یہی مسئلہ پیش آیا ہے کہ پارٹی اوپن پر کام کررہی تھی ،ا ب اس پارٹی نے ایڈوانس کا مطالبہ شروع کردیا ہے اور کہہ رہی ہے کہ پیسے دےکرریٹ کم کرلیں ، میں نے بھائیوں سے کہا کہ اگر ہم نے ایڈوانس رقم دےکرریٹ کم کیا تو یہ سود ہوجائے گا اور ہم اس ریٹ پر ایڈوانس بھی نہیں دےسکتے کیونکہ پھر دوسری ایڈوانس والی پارٹیاں بھی زیادہ ریٹ مانگیں گی اس کا کوئی مناسب حل بتائیں، اسی طرح ہمارے ایک بھائی کی رائے ہے کہ اس سے پچھلا کام ختم کریں حساب کتاب صاف کریں اور نئے سرے سے کام شروع کرے کیا یہ صحیح ہے؟

جواب :

صورت مسئولہ میں یہ رعایت قرض کی وجہ سے نہیں ،بلکہ خریدار کے مستقل گاہک ہونے کی وجہ سے ہے اور چونکہ یہ تاجروں کا طریقہ ہے کہ اپنےمستقل گاہکوں کو رعایت دیا کرتے ہیں ، اس لئے وہ رعایت دے رہے ہیں اور پیشگی رقم کا مطالبہ اطمینان حاصل کرنے کیلئے ہے کہ یہ شخص واقعتاً یہ سامان خریدتا رہے گا،اس صورت میں یہ رعایت شرعا جائز ہے اور آج کل تاجروں کا تعامل بھی اس کی تائید کرتا ہے ،اس لئے راجح یہی ہے کہ اس رعایت کو لینے  کی شرعا گنجائش ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں ایڈوانس رقم لےکر کم ریٹ پر مرغیوں کا کچرا وغیرہ خریدنا جائز ہے اور یہ سود کے زمرہ میں داخل نہیں ۔(ماخذه فتاوى عثماني،ج3،ص252)
كمافي ردالمحتار على الدرالمختار:
وَلَوْ أَعْطَاهُ الدَّرَاهِمَ، وَجَعَلَ يَأْخُذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَةَ أَمْنَانٍ وَلَمْ يَقُلْ فِي الِابْتِدَاءِ اشْتَرَيْتُ مِنْكَ يَجُوزُ وَهَذَا حَلَالٌ وَإِنْ كَانَ نِيَّتُهُ وَقْتَ الدَّفْعِ الشِّرَاءَ؛ لِأَنَّهُ بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ لَا يَنْعَقِدُ الْبَيْعُ، وَإِنَّمَا يَنْعَقِدُ الْبَيْعُ الْآنَ بِالتَّعَاطِي وَالْآنَ الْمَبِيعُ مَعْلُومٌ فَيَنْعَقِدُ الْبَيْعُ صَحِيحًا. اهـ.
قُلْت: وَوَجْهُهُ أَنَّ ثَمَنَ الْخُبْزِ مَعْلُومٌ فَإِذَا انْعَقَدَ بَيْعًا بِالتَّعَاطِي وَقْتَ الْأَخْذِ مَعَ دَفْعِ الثَّمَنِ قَبْلَهُ، فَكَذَا إذَا تَأَخَّرَ دَفْعُ الثَّمَنِ بِالْأَوْلَى، وَهَذَا ظَاهِرٌ فِيمَا كَانَ ثَمَنُهُ مَعْلُومًا وَقْتَ الْأَخْذِ مِثْلَ الْخُبْزِ وَاللَّحْم.
(فروع فى البيع،ج4،ص516،ط: دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب