نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ مسجدمیں اذان ہونے کے بعدیا مسجد میں اذان دینے کے بعد نماز کی ادائیگی سے پہلے بغیر کسی عذر کے مسجد سےنکلنا مکروہ ہے،البتہ اگر کوئی عذر ہو تو پھر نکلنا جائز ہے۔
نیز مصلی کی جگہ کو اگر مسجد کے لیے وقف کیا ہے تو اس پر مسجد کے احکام جاری ہو گے یعنی اذان کے بعد نکلنا مکروہ ہو گا اورا گر و قف نہ کیا گیاہو تو یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے یعنی اذان کے بعد نکلنا مکروہ نہیں ہو گا ۔
كمافي الدرالمختار مع رد المحتار:
(وَكُرِهَ) تَحْرِيمًا لِلنَّهْيِ (خُرُوجُ مَنْ لَمْ يُصَلِّ مِنْ مَسْجِدٍ أُذِنَّ فِيهِ) جَرَى عَلَى الْغَالِبِ وَالْمُرَادُ دُخُولُ الْوَقْتِ أُذِّنَ فِيهِ أَوْ لَا (إلَّا لِمَنْ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ أُخْرَى) أَوْ كَانَ الْخُرُوجُ لِمَسْجِدِ حَيِّهِ وَلَمْ يُصَلُّوا فِيهِ، أَوْ لِأُسْتَاذِهِ لِدَرْسِهِ، أَوْ لِسَمَاعِ الْوَعْظِأَوْ لِحَاجَةٍ وَمِنْ عَزْمِهِ أَنْ يَعُودَ
(باب ادراك الفريضة،ص:54،ج:2،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
وَالْمُصَلَّى) بِالْفِعْلِ وَ (بِقَوْلِهِ جَعَلْته مَسْجِدًا) عِنْدَ الثَّانِي (وَشَرَطَ مُحَمَّدٌ) وَالْإِمَامُ (الصَّلَاةَ فِيهِ).....(قَوْلُهُ: وَالْمُصَلَّى) شَمِلَ مُصَلَّى الْجِنَازَةِ وَمُصَلَّى الْعِيدِ قَالَ بَعْضُهُمْ: يَكُونُ مَسْجِدًا حَتَّى إذَا مَاتَ لَا يُورَثُ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا فِي مُصَلَّى الْجِنَازَةِ، أَمَّا مُصَلَّى الْعِيدِ لَا يَكُونُ مَسْجِدًا مُطْلَقًا، وَإِنَّمَا يُعْطَى لَهُ حُكْمَ الْمَسْجِدِ فِي صِحَّةِ الِاقْتِدَاءِ بِالْإِمَامِ، وَإِنْ كَانَ مُنْفَصِلًا عَنْ الصُّفُوفِ وَفِيمَا سِوَى ذَلِكَ فَلَيْسَ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ،
(احکام المسجد،ص:356،ج:4،ط:دارالفکر)
وفي المحيط البرهاني:
وإن أذن وأقام ولم يصلّ مع القوم يكره؛ لأنه إن كان صلى، فهذا تنفل في الأذان، وإنه غير
مشروع، فإن كان لم يصلِ؟ وفارقهم فيكره.
(الفصل السادس عشر في التغني، ص:346،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔