سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-705 Fatwa no: 1448-705

اذان دینے کے بعد نماز پڑھے بغیر چلے جانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ مسجد کی حدود میں کوئی شخص موجود ہو اور وہا ں نماز کے لیے اذان ہو جائے کیا اس کو اسی مسجد میں نماز ادا کرنا لازم ہے یا ادھر سے جا سکتا ہے کیا مصلی کا بھی یہی حکم ہے؟ نیز اگر کوئی مسجد يا مصلی کا مؤذن مقرر نہ ہو اورکوئی شخص اذان دے کر وہاں سے بغیر نماز ادا کیے چلا جائے اورا س کا یہ معمول ہو تو یہ کیسا عمل ہے ،جبکہ وہاں نماز جماعت سے ہوتی ہے؟
جواب :

بصورت مسئولہ مسجدمیں اذان ہونے  کے بعدیا مسجد میں اذان دینے کے بعد   نماز کی ادائیگی سے پہلے بغیر کسی عذر  کے  مسجد سےنکلنا مکروہ ہے،البتہ اگر کوئی عذر ہو تو پھر  نکلنا  جائز ہے۔
نیز مصلی  کی جگہ کو اگر مسجد کے  لیے وقف کیا ہے تو اس  پر مسجد کے احکام جاری ہو گے یعنی   اذان کے بعد  نکلنا مکروہ ہو گا اورا گر و  قف  نہ کیا گیاہو تو یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے  یعنی اذان کے بعد  نکلنا مکروہ نہیں ہو گا   ۔
كمافي الدرالمختار مع رد المحتار:
(وَكُرِهَ) تَحْرِيمًا لِلنَّهْيِ (خُرُوجُ مَنْ لَمْ يُصَلِّ مِنْ مَسْجِدٍ أُذِنَّ فِيهِ) جَرَى عَلَى الْغَالِبِ وَالْمُرَادُ دُخُولُ الْوَقْتِ أُذِّنَ فِيهِ أَوْ لَا (إلَّا لِمَنْ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ أُخْرَى) أَوْ كَانَ الْخُرُوجُ لِمَسْجِدِ حَيِّهِ وَلَمْ يُصَلُّوا فِيهِ، أَوْ لِأُسْتَاذِهِ لِدَرْسِهِ، أَوْ لِسَمَاعِ الْوَعْظِأَوْ لِحَاجَةٍ وَمِنْ عَزْمِهِ أَنْ يَعُودَ
(باب  ادراك الفريضة،ص:54،ج:2،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
وَالْمُصَلَّى) بِالْفِعْلِ وَ (بِقَوْلِهِ جَعَلْته مَسْجِدًا) عِنْدَ الثَّانِي (وَشَرَطَ مُحَمَّدٌ) وَالْإِمَامُ (الصَّلَاةَ فِيهِ).....(قَوْلُهُ: وَالْمُصَلَّى) شَمِلَ مُصَلَّى الْجِنَازَةِ وَمُصَلَّى الْعِيدِ قَالَ بَعْضُهُمْ: يَكُونُ مَسْجِدًا حَتَّى إذَا مَاتَ لَا يُورَثُ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا فِي مُصَلَّى الْجِنَازَةِ، أَمَّا مُصَلَّى الْعِيدِ لَا يَكُونُ مَسْجِدًا مُطْلَقًا، وَإِنَّمَا يُعْطَى لَهُ حُكْمَ الْمَسْجِدِ فِي صِحَّةِ الِاقْتِدَاءِ بِالْإِمَامِ، وَإِنْ كَانَ مُنْفَصِلًا عَنْ الصُّفُوفِ وَفِيمَا سِوَى ذَلِكَ فَلَيْسَ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ،
(احکام المسجد،ص:356،ج:4،ط:دارالفکر)
وفي المحيط البرهاني:
وإن أذن وأقام ولم يصلّ مع القوم يكره؛ لأنه إن كان صلى، فهذا تنفل في الأذان، وإنه غير 
مشروع، فإن كان لم يصلِ؟ وفارقهم فيكره.
(الفصل السادس عشر في التغني، ص:346،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026