نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ مشترکہ زمین سے جو بھی ذخائر(سونا،چاندی یا دیگر معدنیات وغیرہ) نکلتے ہیں اس میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں کل مال کے پانچ حصے بنا کر اس میں سے خمس (پانچواں حصہ ) دینا لازم ہوتا ہے ،نیزخمس کی ادائیگی کے بعد باقی مال میں تمام شرکاء شریک ہیں کسی ایک کے لیے اس کو اپنے لیے خاص کرنا درست نہیں ،البتہ اگر تمام شرکاء علاقے کے اس ضابطہ پر راضی ہوں کہ جو بھی ان کو نکالے گا وہ اسی شخص کا ہو گا تو خمس کی ادائیگی کے بعد باقی مال اس ایک کے لیے لینا درست ہے ۔
كما في الدرالمختارمع ردالمحتار:
(مَالٌ) مَرْكُوزٌ (تَحْتَ أَرْضٍ) أَعَمُّ (مِنْ) كَوْنِ رَاكِزِهِ الْخَالِقَ أَوْ الْمَخْلُوقَ... (وَجَدَ مُسْلِمٌ أَوْ ذِمِّيٌّ) ...(خُمِسَ) مُخَفَّفًا أَيْ أُخِذَ خُمُسُهُ لِحَدِيثِ «وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» وَهُوَ يَعُمُّ الْمَعْدِنَ كَمَا مَرَّ (وَبَاقِيهِ لِمَالِكِهَا إنْ مُلِكَتْ)
وَالْحَاصِلُ: أَنَّ مَعْدِنَ الْأَرْضِ الْمَمْلُوكَةِ جَمِيعَهُ لِلْمَالِكِ سَوَاءٌ كَانَ هُوَ الْوَاجِدَ أَوْ غَيْرُهُ وَهَذَا رِوَايَةُ الْأَصْلِ الْآتِيَةِ وَفِي رِوَايَةِ الْجَامِعِ يَجِبُ فِيهِ الْخُمُسُ وَبَاقِيهِ لِلْمَالِكِ مُطْلَقًا
(الركاز،ص:320،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي تبيين الحقائق:
(بَابُ الرِّكَازِ) وَهُوَ اسْمٌ لِمَا يَكُونُ تَحْتَ الْأَرْضِ خِلْقَةً أَوْ بِدَفْنِ الْعِبَادِ وَالْمَعْدِنُ اسْمٌ لِمَا يَكُونُ فِيهَا خِلْقَةً وَالْكَنْزُ اسْمٌ لِمَدْفُونِ الْعِبَادِ(خُمِسَ مَعْدِنُ نَقْدٍ وَنَحْوِ حَدِيدٍ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ) يَعْنِي إذَا وُجِدَ مَعْدِنُ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ وَهُوَ الْمُرَادُ بِالنَّقْدِ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ صُفْرٍ أَوْ رَصَاصٍ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ أُخِذَ مِنْهُ الْخُمُسُ..... وَلَنَا قَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ»
(الرِّكَازِ،ص:287،ج:1،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفي العناية:
(بَابُ الْمَعْدِنِ وَالرِّكَازِ) قَالَ (مَعْدِنُ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ رَصَاصٍ أَوْ صُفْرٍ وُجِدَ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ فَفِيهِ الْخُمُسُ).... وَمَسَائِلُ هَذَا الْبَابِ عَلَى خَمْسَةَ عَشَرَ وَجْهًا، لِأَنَّ الذَّهَبَ أَوْ الْفِضَّةَ الَّذِي يُوجَدُ إمَّا أَنْ يَكُونَ مَعْدِنًا أَوْ كَنْزًا، وَكُلُّ ذَلِكَ لَا يَخْلُوَا إمَّا أَنْ يُوجَدَ فِي حَيِّزِ دَارِ الْإِسْلَامِ أَوْ حَيِّزِ دَارِ الْحَرْبِ، وَكُلُّ ذَلِكَ لَا يَخْلُو عَنْ ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ: إمَّا أَنْ يُوجَدَ فِي مَفَازَةٍ لَا مَالِكَ لَهَا، أَوْ فِي أَرْضٍ مَمْلُوكَةٍ، أَوْ فِي دَارٍ، وَالْمَوْجُودُ كَنْزٌ لَا يَخْلُو عَنْ ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ أَيْضًا: إمَّا أَنْ يَكُونَ عَلَى ضَرْبِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، أَوْ عَلَى ضَرْبِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَاشْتَبَهَ الْحَالُ. فَفِي الْأَوَّلِ وَهُوَ مَا يَذُوبُ وَيَتَطَبَّعُ إذَا (وُجِدَ فِي أَرْضِ عُشْرٍ أَوْ خَرَاجٍ الْخُمُسُ عِنْدَنَا
(المعادن والركاز،ص:232،ج:2،ط: دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔