سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-708 Fatwa no: 1448-708

گائے میں نصف نصف شرکت کے باوجود دودھ اور اخراجات کی باہمی معافی کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ایک شخص نے دوسرے شخص کے ساتھ گائے میں شرکت کی اور اسی دوسرےشخص نے اسے اپنے پاس پالنے کے لیے رکھا دودھ بھی وہی استعمال کرتا رہا اور خرچہ بھی وہی کرتا رہا پہلے شخص نے اس کو دودھ ہبہ یعنی گفٹ کر دیا یا معاف کر دیا اور دوسرے شخص نے جو خرچہ کیا وہ اس شخص کو یعنی پہلے والے کو معاف کر دیا تو آیا یہ صورت جائز ہے،اور دونوں کی شرکت آدھی آدھی ہے،اوراگر درست نہیں ہے تواس کی جائز صورت کیا ہوسکتی ہے کہ گائیں دوسرے والے کے پاس ہی ہے اور دودھ بھی وہی استعمال کر رہا ہے اور خرچہ بھی وہ ہی کر رہا ہے؟
جواب :

واضح  رہے  فریقین  کا  باہمی  رضامندی سے   ایک دوسرے کو اپنے  حق سے بری کرنا جائز ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں  دونوں  شریکوں کا آپس میں  مذکورہ  طریقے سے صلح کرنا جائز ہے ،نیز  کسی ایک شریک کے پیسے زیادہ لگانے کی وجہ سے  دوسرے کے حصہ میں کمی نہیں ہو گی ،بلکہ گائے میں دونوں   کی شراکت  ویسے ہی برقرار رہے گی جیسے ابتدا میں تھی۔
سنن ابي داؤد:
عن أبي هريرة، قال: قالَ رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -: "الصُّلحُ جائزٌ بين المسلمينَ -زاد أحمد- إلا صُلحاً أحَلَّ حراماً أو حَرَّمَ حَلالاً". وزاد سليمان بن داود: وقال رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -: "المسلمون على شُرُوطهم"
(باب في الصلح،۴۴۶/۵، دار الرسالة العالمية)
مجلة الاحكام العدلية:
حِصَّةُ أَحَدِ الشَّرِيكَيْنِ فِي حُكْمِ الْوَدِيعَةِ فِي يَدِ الْآخَرِ فَلِذَلِكَ إذَا أَوْدَعَ أَحَدُهُمَا الْمَالَ الْمُشْتَرَكَ مِنْ نَفْسِهِ لِآخَرَ فَتَلِفَ يَكُونُ ضَامِنًا حِصَّةَ شَرِيكِهِ.
(مادة،۲۰۹/۱، نور محمد)
فتاوي هندية:
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما
(الفصل الثالث  في قفيز الطحان،۴۴۵/۴،دارالفکر)
الهداية:
فَشِرْكَةُ الْأَمْلَاكِ: الْعَيْنُ يَرِثُهَا رَجُلَانِ أَوْ يَشْتَرِيَانِهَا فَلَا يَجُوزُ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي نَصِيبِ الْآخَرِ إلَّا بِإِذْنِهِ، وَكُلٌّ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ كَالْأَجْنَبِيِّ) وَهَذِهِ الشِّرْكَةُ تَتَحَقَّقُ فِي غَيْرِ الْمَذْكُورِ فِي الْكِتَابِ 

كَمَا إذَا اتَّهَبَ رَجُلَانِ عَيْنًا أَوْ مَلَكَاهَا بِالِاسْتِيلَاءِ أَوْ اخْتَلَطَ مَالُهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ أَحَدِهِمَاأَوْ بِخَلْطِهِمَا خَلْطًا يَمْنَعُ التَّمْيِيزَ رَأْسًا أَوْ إلَّا بِحَرَجٍ، وَيَجُوزُ بَيْعُ أَحَدِهِمَا نَصِيبَهُ مِنْ شَرِيكِهِ فِي جَمِيعِ الصُّوَرِ وَمِنْ غَيْرِ شَرِيكِهِ بِغَيْرِ إذْنِهِ إلَّا فِي صُورَةِ الْخَلْطِ وَالِاخْتِلَاطِ فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ إلَّا بِإِذْنِهِ، وَقَدْ بَيَّنَّا الْفَرْقَ فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهَى
(كتاب الشركة،۱۵۳/۶، دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026