سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-72 Fatwa no: 1447-72

ٹانگ ٹوٹے جانور کی قربانی کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک شخص نے قربانی کے لئے جانور خریدا،اور گھر لاتے وقت وہ جانور گاڑی سے گرا،جس کی وجہ سے اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ،تو ایسے جانور کی قربانی کرنا درست ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

بصورت مسؤلہ مذکورہ جانور کی ٹانگ    اگر اس قدر ٹوٹ گئی  ہے ،کہ قربانی کے دن تک وہ اس ٹانگ سے چل  نہیں سکا ، تو اس جانور کی قربانی صحیح نہیں ہوگی ، اور اگر اس کا  علاج کر لیا جائے ،  اور  عید کے تیسرے دن تک وہ ٹھیک ہو جائے،یعنی  قربانی کے دن وہ قربانی کی  جگہ تک اس ٹانگ  سے چل کر جاسکے تو پھر  اس کی    قربانی  درست ہوگی  ۔
كما فى الدر المختار:
(ويضحي بالجماء والخصي........ (لا) (بالعمياء والعوراء والعجفاء) المهزولة التي لا مخ في عظامها (والعرجاء التي لا تمشي إلى المنسك) أي المذبح.
(كتاب الاضحية،ج:6،ص:323،ط: دار الفكر)
وفى رد المحتار:
(قوله والعرجاء) أي التي لا يمكنها المشي برجلها العرجاء إنما تمشي بثلاث قوائم، حتى لو كانت تضع الرابعة على الأرض وتستعين بها جاز عناية (قوله إلى المنسك) بكسر السين والقياس الفتح.
(كتاب الاضحية،ج:6،ص:323،ط: دار الفكر)
وفى العناية:
والعرجاء البين عرجها: هي ما لا يمكنها المشي برجلها العرجاء،وإنما تمشي بثلاث قوائم حتى لو كانت تضع الرابعة على الأرض وتستعين بها جاز.
(كتاب الاضحية،ج:9،ص:514،ط: دار الفكر)
وفى المبسوط للسرخسي:
فأما العرجاء إذا كانت تمشي فلا بأس به «؛ لأنه - عليه الصلاة والسلام - سئل عن العرجاء فقال إذا كانت تبلغ فلا بأس به». فإذا كانت لا تقوم، ولا تمشي لا يجوز؛ لأن ذلك يؤثر في لحمها فإنها لا تعلف إلا ما حولها. وإذا كانت تمشي فهي تذهب إلى العلف فلا يؤثر في لحمها.
(الاضحية،ج:12،ص:16،ط: دار المعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب