نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںشرعی تعلیمات کے مطابق مہر عورت کا حق ہے جس کا ادا کرنا شوہر پر لازم ہوتا ،لہذا صورت مسئولہ میں عورت کا جتنا مہر (تین تولہ سونا) نکاح میں مقرر کیا تھا طلاق کے بعد شوہر پر پورامہر اپنی مطلقہ بیوی کو دینا لازم ہے،البتہ گھر کا وہ سامان جو شوہر نے اپنی بیوی کو دلایا تھا اگر وہ سامان اپنی بیوی کو مالک بنا کرسپرد کر دیا تھا تو وہ اس کی مالک بن گئی تھی ؛اس لیے مطالبہ کے وقت اس سامان کا دینا بھی لازم ہے اور اگر وہ اس کی ملکیت میں نہیں دیا تھا ،بلکہ گھر کے استعمال کے لیے لے کر دیا تھاتو یہ خاوند کی ملکیت ہے لڑکی یا لڑکی کے خاندان والے اس کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
كمافي العناية:
(وَمَنْ سَمَّى مَهْرًا عَشْرَةً فَمَا زَادَ فَعَلَيْهِ الْمُسَمَّى إنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا) ؛ لِأَنَّهُ بِالدُّخُولِ يَتَحَقَّقُ تَسْلِيمُ الْمُبْدَلِ وَبِهِ يَتَأَكَّدُ الْبَدَلُ
(باب المهر،ص:322،ج:3،ط: دار الفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
ويكون للمرأة في التفريق قبل الدخول نصف المهر المسمى، وبعد الدخول يكون لها جميع المهر المسمى.
(الاقرار،ص:7291،ج:10،ط: دار الفكر)
وفي الموسوعة الفقهية:
جَاءَ فِي الْفَتَاوَى الْهِنْدِيَّةِ: الزِّيَادَةُ فِي الْمَهْرِ صَحِيحَةٌ حَال قِيَامِ النِّكَاحِ عِنْدَ عُلَمَائِنَا الثَّلاَثَةِ (أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ) ؛ فَإِذَا زَادَهَا فِي الْمَهْرِ بَعْدَ الْعَقْدِ لَزِمَتْهُ؛ هَذَا إِذَا قَبِلَتِ الْمَرْأَةُ الزِّيَادَةَ؛ سَوَاءٌ كَانَتْ مِنْ جِنْسِ الْمَهْرِ أَوْ لاَ؛ مِنْ زَوْجٍ أَوْ مِنْ وَلِيٍّ.
وَالزِّيَادَةُ إِنَّمَا تَتَأَكَّدُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلاَثَةٍ: إِمَّا بِالدُّخُول …فَإِنْ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْمَعَانِي الثَّلاَثَةِ بَطَلَتِ الزِّيَادَةُ وَتَنَصَّفَ الأْصْل وَلاَ تُنْتَصَفُ الزِّيَادَةُ.
(حكم ذكر المهر،ص:151،ج:39،ط: دارالسلاسل)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔