سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-711 Fatwa no: 1448-711

تین طلاق کے بعد مہر اور گھر کے سامان کی واپسی کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی چار سال پہلے ہوئی ہے مہر تین تولہ سونا مقرر ہوا تھا ،لیکن شادی کے کچھ عرصہ بعد میری بیوی مجھ سے جھگڑا کرنے لگی اور طلاق کا مطالبہ کیا،میں نے اس کو طلاق نہیں دی ،تو وہ مجھے چھوڑ کر میکے چلی گئی ،وہاں رہنے لگی میں نے اس کے والدین سے کئی مرتبہ بات کی ،والدین نے اس کو سمجھایا ،لیکن وہ نہ مانی ،پھر کچھ عرصہ بعد میں سعودی عرب چلا گیا ،تو مجھے فون کر کے طلاق مانگنے لگی میں نے غصہ میں آکر اس کو تین طلاقیں دے دیں،اب میں پاکستان واپس آگیا ہوں تو اس کے خاندان والے جرگہ بنا کر میرے گھر آئے اور مجھ سے گھر کے سامان اور مہر کا مطالبہ کرنے لگے ،جبکہ گھر کا سامان میں نے خود لے کر دیا تھا اور نافرمانی و ناراضگی بھی میری طرف سے نہیں تھی تو کیا اس صورت میں اس کا مہر اور گھر کا سامان اس کے حوالہ کرنا لازم ہے؟
جواب :

شرعی تعلیمات کے مطابق     مہر عورت کا حق ہے جس کا ادا کرنا شوہر پر  لازم ہوتا ،لہذا صورت مسئولہ میں عورت کا جتنا مہر (تین تولہ سونا) نکاح میں  مقرر کیا تھا    طلاق  کے بعد شوہر پر پورامہر اپنی مطلقہ بیوی کو دینا   لازم ہے،البتہ گھر کا وہ سامان جو  شوہر نے اپنی بیوی  کو دلایا تھا اگر وہ سامان  اپنی بیوی کو مالک بنا کرسپرد کر دیا تھا تو وہ اس کی مالک بن گئی تھی ؛اس لیے مطالبہ کے وقت اس سامان کا دینا بھی  لازم ہے اور اگر وہ اس کی ملکیت میں نہیں دیا تھا ،بلکہ گھر کے استعمال کے لیے لے کر دیا تھاتو یہ  خاوند کی ملکیت ہے لڑکی یا لڑکی کے خاندان والے اس کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
كمافي العناية:
(وَمَنْ سَمَّى مَهْرًا عَشْرَةً فَمَا زَادَ فَعَلَيْهِ الْمُسَمَّى إنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا) ؛ لِأَنَّهُ بِالدُّخُولِ يَتَحَقَّقُ تَسْلِيمُ الْمُبْدَلِ وَبِهِ يَتَأَكَّدُ الْبَدَلُ
(باب المهر،ص:322،ج:3،ط: دار الفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
ويكون للمرأة في التفريق قبل الدخول نصف المهر المسمى، وبعد الدخول يكون لها جميع المهر المسمى.
(الاقرار،ص:7291،ج:10،ط: دار الفكر)
وفي الموسوعة الفقهية:
جَاءَ فِي الْفَتَاوَى الْهِنْدِيَّةِ: الزِّيَادَةُ فِي الْمَهْرِ صَحِيحَةٌ حَال قِيَامِ النِّكَاحِ عِنْدَ عُلَمَائِنَا الثَّلاَثَةِ (أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ) ؛ فَإِذَا زَادَهَا فِي الْمَهْرِ بَعْدَ الْعَقْدِ لَزِمَتْهُ؛ هَذَا إِذَا قَبِلَتِ الْمَرْأَةُ الزِّيَادَةَ؛ سَوَاءٌ كَانَتْ مِنْ جِنْسِ الْمَهْرِ أَوْ لاَ؛ مِنْ زَوْجٍ أَوْ مِنْ وَلِيٍّ.
وَالزِّيَادَةُ إِنَّمَا تَتَأَكَّدُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلاَثَةٍ: إِمَّا بِالدُّخُول …فَإِنْ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْمَعَانِي الثَّلاَثَةِ بَطَلَتِ الزِّيَادَةُ وَتَنَصَّفَ الأْصْل وَلاَ تُنْتَصَفُ الزِّيَادَةُ.
(حكم ذكر المهر،ص:151،ج:39،ط: دارالسلاسل)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026