سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-712 Fatwa no: 1448-712

عادت کے ایام میں خون رکنے کے بعد ساتویں دن جماع کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کی عادت آٹھ دن ہے ،اس دفعہ اس کو چار دن خون آیا ،اور پھر رک گیا، پانچویں دن اورچھٹےدن خون نہیں آیا ،کیا شخص مذکور کے لیے ساتویں دن جماع کرنا جائز ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ معتادہ عورت کے مقررہ  ایام کے دوران  خون  کے رک جانے کی صورت میں شوہر کے  لیے  اس سے جماع کرنا جائز نہیں ہے،لہذا صورت مسئولہ میں جس عورت کے حیض کی  عادت آٹھ دن ہے،اور   پھر اس کو چار دن خون آیا  پھر پانچویں  دن اور چھٹےدن خون نہیں آیا،تواس کے شوہر کے لیے       مقررہ  عادت  (آٹھ  دن  )سے پہلےاس  سے  جماع کرنا جائز نہیں ۔
الدرالمختار مع ردالمحتار: 
(وان) انقطع لدون ۔۔۔۔۔(لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل(قوله لم يحل) أي الوطء وان اغتسلت؛لأن العود في العادة غالب
 (باب الحيض،۲۹۳/۱، سعيد)
البحرالرائق:
إذا انقطع دم المرأة دون عادتها المعروفة في حيض أو نفاس۔۔۔۔۔ واجتنب زوجها قربانها احتياطا حتى تأتي على عادتها
 ( باب الحيض،ص،۳۵۲/۱، الوحيدية)
الفتاوی التاتارخانية:
وان كانت معتادة وانقطع الدم فيما دون العادة،ولكن ما مضي عليها ثلاثة أيام ۔۔۔۔ كره للزوج قربانها،وكره لها التزوج بزوج آخر حتي تأتي عادتها
 ( باب الحيض،۴۸۴/۱، اعزازية)
الفقه الاسلامي وأدلة:
ولو انقطع دم الحائض لدون عادتها، فوق الأيام الثلاثة، لم يقربها حتى تمضي عادتها، وإن اغتسلت؛ لأن النقاء عندهم حيض كما عرفنا، ولأن العَوْد في العادة غالب، فكان الاحتياط في الاجتناب.
(احکام الحيض،والنفاس،والاستحاضة،۵۳۹/۱، مكتبة رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026