نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ معتادہ عورت کے مقررہ ایام کے دوران خون کے رک جانے کی صورت میں شوہر کے لیے اس سے جماع کرنا جائز نہیں ہے،لہذا صورت مسئولہ میں جس عورت کے حیض کی عادت آٹھ دن ہے،اور پھر اس کو چار دن خون آیا پھر پانچویں دن اور چھٹےدن خون نہیں آیا،تواس کے شوہر کے لیے مقررہ عادت (آٹھ دن )سے پہلےاس سے جماع کرنا جائز نہیں ۔
الدرالمختار مع ردالمحتار:
(وان) انقطع لدون ۔۔۔۔۔(لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل(قوله لم يحل) أي الوطء وان اغتسلت؛لأن العود في العادة غالب
(باب الحيض،۲۹۳/۱، سعيد)
البحرالرائق:
إذا انقطع دم المرأة دون عادتها المعروفة في حيض أو نفاس۔۔۔۔۔ واجتنب زوجها قربانها احتياطا حتى تأتي على عادتها
( باب الحيض،ص،۳۵۲/۱، الوحيدية)
الفتاوی التاتارخانية:
وان كانت معتادة وانقطع الدم فيما دون العادة،ولكن ما مضي عليها ثلاثة أيام ۔۔۔۔ كره للزوج قربانها،وكره لها التزوج بزوج آخر حتي تأتي عادتها
( باب الحيض،۴۸۴/۱، اعزازية)
الفقه الاسلامي وأدلة:
ولو انقطع دم الحائض لدون عادتها، فوق الأيام الثلاثة، لم يقربها حتى تمضي عادتها، وإن اغتسلت؛ لأن النقاء عندهم حيض كما عرفنا، ولأن العَوْد في العادة غالب، فكان الاحتياط في الاجتناب.
(احکام الحيض،والنفاس،والاستحاضة،۵۳۹/۱، مكتبة رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔