سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-713 Fatwa no: 1448-713

معیشتِ ضنک اور حیاتِ طیبہ کی تفسیر

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر معيشت ضنکا سے مراد دنیا کی تنگ زندگی مراد ہے تو کفار سے بڑا کوئی روگردانی کرنے والا کوئی نہیں تو پھر ان کی زندگی تو معيشت ضنکا نہیں اور فلنحيينه حيات طيبةسے مراد دنیا کی پاکیزہ زندگی مراد ہے تو کافر مومن نہیں ہے پھر ان کی زندگی راحت خوش اور چین والی کیوں ہے۔ حوالہ جات (وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ (94) ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّى عَفَوْا وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (95) ترجمہ:کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں ،پھر ہم نے اُن کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خُوب پھلے پھُولے اور کہنے لگے کہ ”ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور بُرے دن آتے ہی رہے ہیں۔“آخرِ کار ہم نے اُنہیں اچانک پکڑ لیا اور اُنہیں خبر تک نہ ہوئی فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ ترجمہ:پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے ۔ کہ قرآن تنگ زندگی کا وعدہ کرتا ہے اور بعض مفسرین کے بقول دنیاوی زندگی مراد ہے تو کافر خوشحال کیوں ہیں؟اور حياة طيبة سے دنیاوی زندگی مراد ہے تو بہت سے ایمان و اعمال صالحہ والے خوف و پریشانی اور دکھ و تکالیف میں مبتلا کیوں ہیں؟
جواب :

 بصورت مسئولہ  اسلام کے دشمن اگر چہ  بظاہر  کا فی خوش حال نظر آتےہیں  ،مگر حقیقت میں  ان کے دل تنگ  ہوتے ہیں اوران کے دل میں سکون و اطمنان  نہیں ہوتا، اور ان کی یہ ظاہری خوشحالی اللہ کی طرف سے مہلت ہوتی ہے، نہ کہ انعام ،اور اس  آیت ( معيشت ضنكا ) سے مراد  بھی اسی طرح کی  تنگی  ہے جو  راحت اور سکون سے خالی ہو ؛کیونکہ  کافر کا دل حرص اور  ترقی میں اس طرح  ڈوب جاتا ہے کہ  وہ دن رات   اس میں لگا  ہوتا ہے  اور وہ  ہر وقت  دولت و عزت کے چلے جانے کے ڈر میں  مبتلا رہتا ہے  بظاہر تو  اس  کے پاس بیشمار  دولت ہوتی ہے ،لیکن وہ  حیرانیوں اور پریشانیوں میں   گرا رہتا  ہے  اس کے برخلاف اہل ایمان کی زندگی میں ظاہری پریشانیاں ہو سکتی ہیں، مگر ان کی زندگی میں سکون ، اللہ کا قرب ،اور ہر چیز کا اسی کی طرف سے ہونے اور  ان یشانیوں  پر ملنے والے ثواب کا یقین ان کے دل میں  ہوتا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے اور ( حیات  طیبہ ) سے جو دنیا کی زندگی مراد ہے  اس کا مطلب بھی یہی ہے یہ مطلب نہیں ہے  کہ اہل ایمان پر کوئی تکلیف نہ آئے گی ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں دل سے مطمئن ہوتے ہیں اور اللہ پر راضی رہتے ہیں۔
نیز  جن آیات  کا  حوالہ دیا ہے  اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی نافرمان قوموں کو خوب دنیاوی خوشحالی دیتا ہے تاکہ وہ مزید غافل ہو جائیں پھر اچانک پکڑ آتی ہے اور یہ ڈھیل  ان کے حق میں بہتری نہیں ہے ، بلکہ یہ مہلت ان کی سزا کو بڑھانے کے لیے  ہوتی ہے۔
كما في تفسير المظهري:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي يعنى عن الهدى الذاكر لى والداعي الى عبادتى- فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً اى ضيقا مصدر وصف به للمبالغة ولذلك يستوى فيه المذكر والمؤنث- قال البغوي عن ابن مسعود وابى هريرة وابى سعيد الخدري انهم قالوا هو عذاب القبر...وحاصل هذين القولين ان من اعرض عن ذكر الله كان مجامعا همه ومطامح نظره الى اعراض الدنيا متهالكا على ازديادها خائفا على انتقاصها- بخلاف المؤمن الطالب للاخرة فانه قانع على ما أعطاه الله شاكر عليه متوكل على الله فتكون حياته في الدنيا طيبة
(سورةطه،ص:171،ج:6،ط:مكتبة الرشدية)
وفي روح المعاني:
والمتبادر أن تلك المعيشة له في الدنيا. وروي ذلك عن عطاء وابن جبير، ووجه ضيق معيشة الكافر المعرض في الدنيا أنه شديد الحرص على الدنيا متهالك على ازديادها خائف من انتقاصها غالب عليه الشح بها حيث لا غرض له سواها بخلاف المؤمن الطالب للآخرة
(طه:ص:585ج:8،ط: دار الكتب العلمية)
وفي التفسير الكبير:
وَهُوَ قَوْلُ السُّدِّيِّ إِنَّ هَذِهِ الْحَيَاةَ الطَّيِّبَةَ إِنَّمَا تَحْصُلُ فِي الْقَبْرِ.
وَالْقَوْلُ الثَّالِثُ: وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِنَّ هَذِهِ الْحَيَاةَ الطَّيِّبَةَ لَا تَحْصُلُ إِلَّا فِي الْآخِرَةِ وَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ قوله تعالى: يَا أَيُّهَا الْإِنْسانُ إِنَّكَ كادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحاً فَمُلاقِيهِ [الِانْشِقَاقِ: 6] فَبَيَّنَ أَنَّ هَذَا الْكَدْحَ بَاقٍ إِلَى أَنْ يَصِلَ إِلَى رَبِّهِ وَذَلِكَ مَا قُلْنَاهُ، وَأَمَّا بَيَانُ أَنَّ الْحَيَاةَ الطَّيِّبَةَ فِي الْجَنَّةِ فَلِأَنَّهَا حَيَاةٌ بِلَا مَوْتٍ وَغِنًى بِلَا فَقْرٍ، وَصِحَّةٌ بِلَا مَرَضٍ، وَمُلْكٌ بِلَا زَوَالٍ، وَسَعَادَةٌ بِلَا شَقَاءٍ، فَثَبَتَ أَنَّ الْحَيَاةَ الطَّيِّبَةَ لَيْسَتْ إِلَّا تِلْكَ الْحَيَاةَ، ثَمَّ إِنَّهُ تَعَالَى خَتَمَ الْآيَةَ بِقَوْلِهِ: وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كانُوا يَعْمَلُونَ وقد سبق تفسيره والله أعلم.
(النحل، ص:268،ج:20،ط: دار إحياء التراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026