سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-714 Fatwa no: 1448-714

مقتول کےورثاء کا قاتل سے دیت کے ساتھ علاج پر ہونے والے خرچے کا مطالبہ کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زيد نے عمرو کو زخمی کیا اس کا علاج چلتا رہا تھا کہ اس کی موت واقع ہوگئی ،اب اس کے ورثاءزید سے دیت کے ساتھ ساتھ علاج پر ہونے والے خرچے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں ،کیا ان کا یہ مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :

دیت مالی معاوضہ ہے جو  شریعت نے قاتل پر کسی کو  قتل کرنے کی وجہ سے لازم کیا ہےاس کے علاوہ  اور کوئی مالی معاوضہ قاتل پر لازم  نہیں کیا ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں مقتول کے ورثاء  کا  قاتل سے   دیت کے علاوہ علاج کے خرچہ   کا مطالبہ کرنا شرعاً  درست نہیں ہے،البتہ اگر  قاتل اپنی رضامندی سےخود دیدے تو  یہ اس کی طرف سے  تبرع سمجھا جائے گا۔
كمافي القرآن المجيد:
وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ
(النساء:92،4 )
 وفي سنن ابي داؤد: 
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى..... وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى قَرَابَتِهِمْ، فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ
(باب ديات الاعضاء،ص:189،ج:4،ط: المكتبة العصرية)
وفي الفتاوي الهندية:
(الباب الثامن في الديات) الدية المال الذي هو بدل النفس والأرش اسم للواجب بالجناية على ما دون النفس
(الباب الثامن في الديات،ص:6،ج:2،ط: دار الفكر)
وفي البناية:
الموجب الدية وهي بدل النفس من غير اعتبار المساواة،……فيجتمع ضمان الكل وضمان الجزء في حالة واحدة، ولا يجتمعان
(ضرب رجلا مائة،ص:134،ج:13،ط: دار الكتب العلمية)
وفي مجلة الاحكام:
 لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَحَدٍ بِلَا سَبَبٍ شَرْعِيٍّ
(المادة،ص:27،ج:1،ط: نور محمد)وفي تبيين الحقائق:
وفي تبيين الحقائق:
وَالْقِصَاصُ بَدَلُ النَّفْسِ كَالدِّيَةِ
(صولح علي ماله، ص:114،ج:6،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026