سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-715 Fatwa no: 1448-715

جائیداد کسی دوسرے کے نام منتقل کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
والدہ صاحبہ کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں والدہ صاحبہ کی زمین تھی جو کہ والدہ صاحبہ کو اپنے والدین سے وراثت میں ملی تھی والدہ صاحبہ نے اپنی زندگی میں زمین اپنے پانچ بیٹوں کے نام ٹرانسفر کروا دی تھی اس زمین میں سے بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا گیا اب والدہ صاحبہ فوت ہو چکی ہیں بیٹیاں تینوں شادی شدہ ہیں اور صاحب اولاد ہیں ایک بیٹی فوت ہو چکی ہے اور اس کی اولاد موجود ہے۔سوال یہ ہے کے اس زمین پر (جو والدہ کی زندگی میں بیٹوں کے نام ہوئی اور اس پر بیٹیوں کی رضا مندگی اور عدم رضا مندگی کا علم بھی نہیں ہے)بیٹیوں کا حق ہے یا نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ  زندگی میں اپنی  جائیداد کا کسی دوسرے کو  بغیر عوض کے مالک بنا دینا ہبہ ہے اور ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے عاقدین یعنی ہبہ کرنے والے کا ہبہ کرنے والی چیز سے بے دخل ہونا اور جس کو ہبہ کیا جا رہا ہے اس کا قبضہ کرنا شرط ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر والدہ  صاحبہ نے زمین بیٹوں کے نام کروانے کےبعد اس زمین کو اپنی ملکیت سے نکال کر بیٹوں کی ملکیت میں  دی تھی  اور بیٹوں نےاس پر قبضہ بھی کر لیا تھا   تو انکی  ملکیت ثابت ہو گئی  ایسی صورت میں والدہ کی وفات کے بعد اس  زمین  میں وراثت جاری نہیں ہوگی اور بیٹوں کی ہی ملکیت شمار  ہو گی،تاہم اگر والدہ نے  وہ زمین  صرف  بیٹوں کے نام کر دی تھی اور خود اس سے بے دخل  ہوکر مکمل قبضہ اور تصرف کااختیار اپنے بیٹوں کو نہیں دیا تھاتوہبہ تام نہ ہونے کی بناء پراس زمین میں وراثت  جاری ہو گی اور تینوں بیٹیوں کو اس زمین میں  سے  حصہ ملے گا نیز جو بیٹی   فوت ہو چکی ہے اس کا حصہ  اس کی اولاد کو ملے گا ۔
كما في الفتاوي التاتارخانية:
وفي الذخيرة۔واذا أراد الرجل أن يفضل بعض أولاده في الهبة في حال الصحة روي عن أبي حنيفة:انه لابأس به،إذا كان التفضيل بسبب زيادة الفضل له في الدين، فان كان سواء يكره هكذا ذكر في بعض المواضع، وعن أبي يوسف: أنه لا بأس به إذا لم يرد الاضرار بالثاني،وذاك في بعض المواضع ان كان التفضيل بالزيادة فلا بأس بذلك،وإن كان في البر سواء لا ان يفعل ذلك، وان كان له ولد فاسق لا يعطيه،وينبغي أن لا يعطيه اكثر من قوته كي لايصير معينا له علي المعصية.
الفصل السادس في الهبة من الصغير،ص:462،ج:14، ط:اعزازية))
وفي البحر الرايق:
( وهبة الأب لطفله تتم بالعقد) ۔۔۔۔ وقيد بالطفل لأن الهبة للولد الكبير لا تتم إلا بقبضه ولو كان في عياله كذا في المحيط۔۔۔۔فروع يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد ( ( ( الواحد ) ) ) جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط ۔۔۔وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية ولو كان ولده فاسقا لا يعطى له أكثر من قوته.
(كتاب الهبه،ص: 490،ج:7،ط: الوحيدية)
وفي المحيط البرهاني:
أن القبض شرط تمام الهبة، واشتغال الموهوب بملك الواهب يمنع تمام القبض من الموهوب له، وهذا لأن الموهوب ما دام يملك الواهب كان يد الواهب قائمة على الموهوب لقيامها على ما هو شاغل للموهوب، وقيام يد المواهب.... يمنع تمام الموهوب له .
(ما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ص:174،ج:9،ط:ادرة القرآن) 
وفي الدر المختار؛
شرائط صحتها ( في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول ) وركنها ) هو ( الإيجاب والقبول ).
( کتاب الهبة،ص:688،ج: 5، ط: سعيد)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026