سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-718 Fatwa no: 1448-718

میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر وعظ ونصیحت کرنےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پرجو بیان ،وعظ ونصیحت ہوتی ہے اس کاشرعی حکم کیا ہے؟
جواب :

(حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ میں شریک تھےاسی اثناء میں آپﷺ تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور بعض دینی باتیں بتائیں الخ)مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر  بیان اور وعظ و نصیحت جائز ہے،لہذا میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر جو بیان اور وعظ و نصیحت کی جاتی ہے وہ مستحب ہے ،وعظ و نصیحت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
صحيح البخاري:
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الغَرْقَدِ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً».
(موعظةالمحدث،۹۶/۲،دار طوق)
ايضا:
(قوله يخرجون من الاجداث) اعلم ان محادة البخاري انه يذكر تفسير بعض الالفاظ القرآن المناسب لترجمة الباب وللحديث الذي فيه؛تكثيرا للفوائد،وان كان بينهما بعيدة مناسبة... مناسبة ايراد هذه الآيات في هذه الترجمة الاشارة الي ان المناسب لمن قعد عند القبر ان يقصر كلامه علی الانذار بقرب المصير الي القبر ثم الي النشر.
(موعظةالمحدث۷۳۱/۱،بشری)
الدرالمختار:
ويستحب.. وجلوس ساعة بعد دفنه لدعاء وقراءة بقدر ما ينحر الجزور ويفرق لحمه...(قوله: وجلوس إلخ) لما في سنن أبي داود «كان النبي - صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من دفن الميت وقف على قبره وقال: استغفروا لأخيكم واسألوا الله له التثبيت فإنه الآن يسأل» وكان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها.
(دفن الميت،۲۳۷/۲،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026