نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںاگر کسی میت کو نماز جنازہ کے بغیر دفن کر دیا گیا،تو نماز جنازہ پڑھنے کے لیے میت کو قبر سے نہیں نکالاجائے گا،بلکہ قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی،جب تک کہ میت کے خراب ہونے کا غالب گمان نہ ہو،اورعام طور پر تین دن کا اعتبار ہوتا ہے۔
الدرالمختار:
(وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة)... (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح... (قوله هو الأصح) لأنه يختلف باختلاف الأوقات حرا وبردا والميت سمنا وهزالا والأمكنة بحر، وقيل يقدر بثلاثة أيام، وقيل عشرة، وقيل شهر.
(صلاة الجنازة،۲۲۴/۲،دارالفکر)
البحرالرائق:
(فإن دفن بلا صلاة صلى على قبره ما لم يتفسخ) لان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قبر امرأة من الانصار.
(فصل السلطان،۳۱۹/۲،دارالفکر)
الفقه الاسلامي:
قال الحنفية : إن دفن الميت ولم يصل عليه، صلي على قبره، استحساناً ما لم يغلب على الظن تفسخه، والمعتبر في معرفة عدم التفسخ أكبر الرأي من غير تقدير في الأصح، لاختلاف الحال والزمان والمكان.
( الصلاة علی الميت،۴۲۲/۲،رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔