سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-720 Fatwa no: 1448-720

نمازِ جنازہ کے بغیر دفن میت کو قبر سے نکالنے اور قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی میت کونماز جنازہ کے بغیر دفن کر دیا جائے تو نماز جنازہ پڑھنے کے لیے اس کو قبر سے نکالا جائے گا یا نہیں،بصورت دوم قبر پر کب تک نماز جنازہ پڑھا جاسکتا ہے؟
جواب :

اگر کسی میت کو  نماز جنازہ کے بغیر  دفن کر دیا گیا،تو نماز جنازہ پڑھنے کے لیے  میت کو قبر سے نہیں  نکالاجائے گا،بلکہ قبر پر  نماز جنازہ پڑھی جائے گی،جب تک کہ میت کے خراب ہونے کا غالب گمان نہ ہو،اورعام طور پر تین دن کا اعتبار ہوتا ہے۔
الدرالمختار:
(وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة)... (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح... (قوله هو الأصح) لأنه يختلف باختلاف الأوقات حرا وبردا والميت سمنا وهزالا والأمكنة بحر، وقيل يقدر بثلاثة أيام، وقيل عشرة، وقيل شهر.
(صلاة الجنازة،۲۲۴/۲،دارالفکر)
البحرالرائق:
(فإن دفن بلا صلاة صلى على قبره ما لم يتفسخ) لان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قبر امرأة من الانصار.
(فصل السلطان،۳۱۹/۲،دارالفکر)
الفقه الاسلامي:
قال الحنفية : إن دفن الميت ولم يصل عليه، صلي على قبره، استحساناً ما لم يغلب على الظن تفسخه، والمعتبر في معرفة عدم التفسخ أكبر الرأي من غير تقدير في الأصح، لاختلاف الحال والزمان والمكان.
( الصلاة علی الميت،۴۲۲/۲،رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026