سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-721 Fatwa no: 1448-721

ترکہ کی زمین سے بیٹیوں کو محروم کرنے اور ان کے حصے پر بنائے گئے مکانات میں رہائش و نماز کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد صا حب کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہو گیا ہے اور والدہ محترمہ حیات ہیں ،اندازً 17 مرلے زمین ایک جگہ ہے اور 55 مرلے وہ زمین جس میں تین بھائیوں نے مکان بنا لیے ہیں اور دو بھائی ابھی مکان بنانا چاہتے ہیں ،ایک بھائی کہتا ہے کہ ساری زمین میں بہنوں کو بھی حصہ دے دو، جبکہ باقی سارے بھائی اور والدہ صاحبہ بہنوں کو حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ،آیا ایسے مکانات میں رہنا کیسا ہے اور اس میں نماز وعبادت کرنا کیسا ہے کیا کوئی شرعی قباحت تو نہیں ہے؟
جواب :

والد کی میراث میں جس طرح ان کے بیٹوں کا حق ہے اسی طرح مرحوم کی بیٹیوں کا بھی حق ہے ،ا س لیے بھائیوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ بہنوں کا شرعی  حق  دبا کر ان کی اجازت کے بغیر اس میں کوئی تصرف کریں اس لیےصورت مسئولہ میں سارے بھائی  بہنوں  کے شرعی حصوں  میں  ان کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے سے گناہگار ہونگے اور آخرت میں مؤاخذہ بھی ہوگا،لہذا جن مکانوں میں بہنوں کا  حق ہے ان میں ان کی اجازت کے بغیر بھائیوں     کے لیے  ر ہنا جائز   نہیں البتہ  ان میں نماز ادا کرنا درست ہوگا ۔

كمافي شر ح صحيح البخاري:
( صلى الله عليه وسلم ) يسيح فى الأرض ويصلى حيث أدركته الصلاة ، فكأنه قال ( صلى الله عليه وسلم ) : جعلت لى الأرض مسجد وطهورا ، وجعلت لغيرى مسجدا ، ولم تجعل له طهورا . وفى قوله : تمت فأيما رجل أدركته الصلاة ، فليصل.
(كتاب التيمم،ص:469،ج:1،ط:دار الفكر)
وفي المبسوط:
فإن الله تعالى بين نصيب كل واحد من أصحاب الفرائض والتقدير الثابت بالنص يمنع الزيادة عليه لأن في الزيادة مجاوزة الحد الشرعي وقد قال الله تعالى بعد آية المواريث: {وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ} [النساء: 14] الآية، فقد ألحق الوعيد بمن جاوز الحد المشروع وفي الرد عليهم زيادة على ما قدر لكل واحد منهم.
( الجزء تاسع والعشرون،:356،ج:29،ط:دار الفكر)
وفي شرح المجلة:
 ( المادة 97 ) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف { لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده } فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.
(وفي قواعد الكلية الفقهية،ص:255،ج:1،ط: انوار القرآن)
وفي العناية:
قال ( وإذا كان كل واحد من الشركاء ينتفع بنصيبه ۔۔۔( وإذا كان كل واحد من الشركاء ينتفع بنصيبه إلخ ) إذا طلب أحد الشركاء القسمة فإما أن ينتفع كل بنصيبه أو بعضهم أو لا ينتفع منهم أحد.
( فصل فيما يقسم وما لا يقسم،ص:44،ج:14،ط:دار الفكر)
وفي الدر المختار:
  مطلب في الصلاة في الأرض المغصوبة قوله ( وأرض مغصوبة أو للغير ) لا حاجة إلى قوله أو للغير إذ الغصب يستلزمه اللهم إلا أن يراد الصلاة بغير الإذن وإن كان غير غاصب .... ثم قال وفي شرح المنية للحلبي بنى مسجدا في أرض غصب لا بأس بالصلاة فيه. 
(مطلب في الصلاة في الأرض المغصوبة،ص:381،ج:1،ط:سعيد)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026