سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-722 Fatwa no: 1448-722

لاپتہ شخص کے ترکہ میں اس کے زندہ بہن بھائیوں کے حقِ وراثت کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں اکہ ایک آدمی تقریبا 23 سال کی عمر میں غائب ہوا،جس وقت غائب ہوا،تو اس کے والدین ،اور بہن بھائی زندہ تھے،اب 45 سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران اس کے والدین،دو بھائی اوردو بہنیں فوت ہو ئے،اب ایک بھائی اورایک بہن زندہ ہیں،اورشخص مذکور کا بظاہر آنے کا کوئی چانس بھی نہیں تو اس صورت میں میراث میں اس کا جو حصہ ہے،اس کا وارث کون ہوگا؟ بھائی کا کہنا ہے کہ میں اس کا بھائی ہوں،اور اس کا سارا کا سارا حصہ میرا ہے،کیا بہن کا اس میں کوئی حق ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں
جواب :

صورت مسئولہ ميں دو باتوں كا سمجھنا ضروری  ہے :
(1)مفقودالخبر (ایسا  شخص  جس کے بارے میں کوشش کرنے کے باوجود  زندہ یا مردہ ہونے کی خبر معلوم نہ ہو) اس کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال میں  زندہ تصور کیا جائے گا اور اس کی وراثت تقسیم نہیں کی جائے گی ۔
(2) غیر کے مال میں  جب سے مفقود ہوا ہے تب سے مردہ تصور  کیا جائے گا اور اس کو غیر کے مال سے وراثت میں حصہ نہیں ملے گا
لہذا صورت مسئولہ  میں  جو لڑکا  23 سال کی عمر میں اپنے والدین کی  وفات سے پہلے غائب  ہوا ہے  اس کا والدین کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہے ،بلکہ   اس بھائی کا جتنا حصہ بنتا ہے وہ والدین کے وفات کے وقت جتنی اولاد موجود تھی ان کے درمیان  ان کے حصہ کے بقدر تقسیم کیا جائے گا کسی ایک وارث کے لیے  اس حصہ میں ملکیت کا دعوی کرنا درست نہیں ہے،تاہم اگر تقسیم کے بعد مذکورہ شخص آجائے تو  اس کا حصہ جن کے درمیان تقسیم کیا گیا  ہے ان سےواپس لے کر اس کو  دیا جائے گا  ۔
وفي الدرالمختار مع ردالمحتار:
(وَمَيِّتٌ فِي حَقِّ غَيْرِهِ فَلَا يَرِثُ مِنْ غَيْرِهِ) حَتَّى لَوْ مَاتَ رَجُلٌ عَنْ بِنْتَيْنِ وَابْنٍ مَفْقُودٍ وَلِلْمَفْقُودِ بِنْتَانِ وَأَبْنَاءٌ وَالتَّرِكَةُ فِي يَدِ الْبِنْتَيْنِ وَالْكُلُّ مُقِرُّونَ بِفَقْدِ الِابْنِ.
(كتاب المفقود،ص:293،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، أَوْ تَقْدِيرًا كَجَنِينٍ فِيهِ غُرَّةٌ وَوُجُودُ وَارِثِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ حَيًّا حَقِيقَةً أَوْ تَقْدِيرًا كَالْحَمْلِ وَالْعِلْمِ بِجِهَةِ إرْثِهِ، …..بَيَانُهُ أَنَّ شَرْطَ الْإِرْثِ وُجُودُ الْوَارِثِ حَيًّا عِنْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ.
(كتاب الفرائض،ص:758،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي شرح المجلة:
 ( المادة 97 ) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة 
من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف { لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده } فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.
(وفي قواعد الكلية الفقهية،ص:255،ج:1،ط: انوار القرآن)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026