سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-723 Fatwa no: 1448-723

میسجز کے ذریعے طلاق واقع ہونے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں كہ ميرے شوہر جیل میں ہیں مجھے شوہر کی اجازت سے ایک ضروری کام سے جاناتھا بلکہ کام بھی اُن کا ہی تھا(یعنی وکیل کے سلسلے میں جانا تھا)۔ جس پر انہوں نے مجھے بولا کہ اگر تم برقعہ کے بغیر گئی تو میرا تم سے رشتہ ختم ہو جائے گا۔ اور یہ کہ میں ختم کر دوں گا ۔ اور تم کو آزاد کر دوں گا خدا کی قسم اگر برقعہ پہن کر نہ گئی تو میں رشتہ ختم کر دوں گا ۔ جس طرح میرا ایمان پکا ہے اسی طرح میری قسم بھی پکی ہے۔ ہم لوگ اُدھر چلے گئے۔ ساتھ میں میری بہن بھی تھی اور میرے سسر صاحب بھی ۔ اُدھر اس جگہ پہ ہم لوگوں کو دیر ہو گئی۔ کام سے کافی لیٹ فارغ ہوئے ۔ اور سفر کافی لمبا تھا اس لیے ہم لوگ اُدھر ہوٹل پہ رک گئے ۔ سسر صاحب نے دو کمرے لیے، ایک کمرے میں سسر صاحب تھے اور دوسرے میں میری بہن اور میں ،میرے شوہر نے کہا کہ تم واپس گھر جاؤ . ادھر نہیں رکنا ہے میں نے اُن کو بتایا کہ بہت دیر ہو چکی ہے. اس وقت آپ کے والد صاحب یعنی کہ میرے سسر گاڑی نہیں چلا سکتے اندھیرا ہو گیا ہے۔ اور میں اُن کے ساتھ آئی ہوئی ہوں تو اُن کو ادھر چھوڑ کے واپس کیسے آؤں ، تقریباً 4 سے 5 گھنٹے کا سفر تھا اور سسر صاحب واپس آنے کے لئے نہیں مان رہے تھے کہ راستہ خطرناک ہے تو صبح جائیں گے ابھی جانا مناسب نہیں ہے۔ میں نے کافی بہانے بھی کیے۔ مگر وہ نہیں مانے اس پر میر ے شوہر نے کہا کہ تم نے میری بات نہیں مانی تو اب طلاق کا انتظار کرو اور یہ کہ ایسی نا فرمان بیوی کو میں اپنے ساتھ نہیں رکھتا ۔ اور یہ کہ اگر رات اُدھر گزاری تو میری طرف سے طلاق ہی سمجھو یہ سب باتیں اُنہوں نے مختلف میسیج کر کے مجھے بولی ہیں ،میرے سسر صاحب انتہائی سخت طبیعت کے مالک ہیں. وہ کبھی بھی کسی کی بات نہیں سنتے اور نہ ہی اُن کے آگے کسی کی چلتی ہے۔ اُن کو میں کچھ بھی نہیں بول سکتی تھی ۔ اور یہ بات میرے شوہر کو بھی بہت اچھی طرح سے پتاہے۔ فارغ کر دینے والا لفظ اُنھوں نے مجھے چھ سے سات دفعہ بولا ہے. اور مختلف میسج میں بولا ہے وہ میسیج اردو میں بالترتیب یہ ہیں جس میں شوہر نے مختلف قسم کے الفاظ کو استعمال کیا ہے جس میں یا تو صراحتاً طلاق کے الفاظ ہیں یا جو طلاق پر دلالت کرتے ہیں :۔ (1): اگر گاؤن (برقعہ) کے بنا آپ گئی اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پے بیٹھی تو میرا اور آپ کا رشتہ ہمیشہ کےلیے ختم ہو جائے گا،میں ختم کر دوں گا۔ وضاحت: میں برقع پہن کر گئی اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بھی نہیں بیٹھی،بلکہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی ۔ (2): اگر آپ بنا برقعہ کے ان کے ساتھ گئی تو خدا کی قسم آپ سے رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا۔ (3): طلاق کا انتظار کرو ٹھیک ہے (4): اگر تم رات کو ادھر رہ گئی ہو تو طلاق کا انتظار کرو (5):اور واپس آکے میرے طلاق کے پیپر کاا نتظار کرو رات ہوٹل میں رہنے کے بعد شوہر نے یہ الفاظ میسیج میں لکھ کر بھیجے تھے جو بالترتیب درج ذیل ہیں : (6): تم نے اگر رات ادھر گزاری تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے (7): میں نے تم کو فارغ کر دیا تو ایزا کے ذریعے مجھے بلیک میل کرنے کی ضرورت نہیں (8): میری طرف سے تم فارغ ہو (9): جب تم کو فارغ کر دیا ہے (10): فارغ تم کو کر دیا ہے باقی جو رسمی کاروائی رہتی ہے (11): پہلے تم کو صرف زبان سے فارغ کیا تھا اب اپنے دل سے بھی فارغ کر دیا ہے (12): اور تم سے بھی میرا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے (13): خیر جس کو چھوڑ دیا جس سے رشتہ ختم کر دیا (14): میں نے تم کو فارغ کر دیا ہے اپنی عدت پوری کرواور دفعہ ہو جاؤ،چھ دن ہو گئے ہیں فارغ کیے ہوئے تو باقی دنوں کا حساب کر لو۔
جواب :

صورت مسئولہ میں   متعین وقت کے اندر بیوی کے گھر نہ  آنے  کی وجہ سے اس پر ان الفاظ(  میری طرف سے  تمہیں طلاق ہے) سے ايك طلاق رجعی  اور اس کے ساتھ ا ن الفاظ  (میں نے تم کو فارغ کر دیا) سے  ایک طلاق بائن(یعنی کل دو طلاقیں ) واقع ہوگئی ہے   البتہ  اس کے بعد   (فارغ ہو یا فارغ کردیایاعدت پوری کرو وغیرہ)  کے الفاظ سے کوئی طلاق   واقع نہیں ہوگی،لہذا اب دو طلاقوں کے بعد     اگر  دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں  تو دوبارہ نئے   مہر کے ساتھ نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں  ، بغیر تجدید نکاح   کے  اکھٹے رہنا جائز نہیں  ،نیز نکاح  کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار   باقی ہو گا۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
(البقرة:آية:229،پاره:2)
وفي الدر المختار مع رد المحتار:
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب....... وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة 
 (كتاب الطلاق،ج:3،ص:247،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
الكنايات ( لا تطلق بها ) قضاء ( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب فالحالات ثلاث رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ولا......... ونحو خلية برية حرام بائن ) ومرادفها كبتة بتلة ( يصلح سبا ......... ( وفي الغضب ) توقف ( الأولان ) إن نوى وقع وإلا لا ( وفي مذاكرة الطلاق ) يتوقف ( الأول فقط ) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي 

النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية.... الصريح الذي هو الأصل في الكلام لما أنه موضوع للإفهام
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:296،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
قوله ( لا يلحق البائن البائن ) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح..... قال في البحر: وينبغي أنه إذا أبانها ثم قال لها أنت بائن ناويا طلقة ثانية أن تقع الثانية بنيته لأنه بنيته لا يصلح خبرا، فهو كما لو قال أبنتك بأخرى، إلا أن يقال إن الوقوع إنما هو بلفظ صالح له وهو أخرى بخلاف مجرد النية. اهـ. وفيه أن اللفظ الثاني صالح، ولو أبدل صالحا بمعين له لكان أظهر ط.
أقول: ويدفع البحث من أصله تعبيرهم بالإمكان، وبأنه لا حاجة إلى جعله إنشاء متى أمكن جعله خبرا عن الأول لأنه صادق بقوله أنت بائن على أن البائن لا يقع إلا بالنية، فقولهم البائن لا يلحق البائن لا شك أن المراد به البائن المنوي، إذ غير المنوي لا يقع به شيء أصلا ولم يشترطوا أن ينوي به الطلاق الأول.
فعلم أن قولهم إذا أمكن إلخ احتراز عما إذا لم يمكن جعله خبرا كما في أبنتك بأخرى، لا عما إذا نوى به طلاقا
 (كتاب الطلاق،ج:3،ص:308،ط: دار الفكر)
وفي الفتاوى الهندية: 
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب..... وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
وفيه ايضا:
والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح بأن قال لها أنت طالق ثم قال لها أنت بائن تقع طلقة أخرى ولا يلحق البائن البائن بأن قال لها أنت بائن ثم قال لها أنت بائن لا يقع إلا طلقة واحدة بائنة لأنه يمكن جعله خبرا عن الأول وهو صادق فيه فلا حاجة إلى جعله إنشاء لأنه اقتضاء ضروري حتى لو قال عنيت به البينونة الغليظة ينبغي أن يعتبر وتثبت به الحرمة الغليظة......ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك ..... أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. ....يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء
(فصل في الطلاق بالكتابةوفي الكنايات،ج:1،ص:،377،375،379،ط: دار الفكر)

وفي الهداية:
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق  وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا ".
(فصل في الطلاق،ج:1،ص:244،ط: دار احياء التراث العربي)
وفي البناية:
(والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط) ش: لأن الأصل في كل ثابت استمراره، خصوصاً النكاح الذي هو عقد العمر، ومجرد احتمال الزوال لا يلتفت إليه، لأنه ليس بناشئ عن الدليل.
 (فصل،ج:5،ص:413،ط: دار الكتب العلمية)
وفي بدائع الصنائع:
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق، ولكن تنحل اليمين لا إلى جزاء حتى إنه لو قال لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق فدخلت الدار وهي في ملكه طلقت.
(فصل،ج:3،ص:126،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026