سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-74 Fatwa no: 1447-74

جانور پالنے کے لئے اجارہ پر دینےکاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
آج کل جانور ساجھے پر دینا یعنی شراکت پر ان کے بہت سے طریقے رائج ہیں :جیسے  ایک آدمی بکری،بھیڑ گائے یا بھینس خرید کر دوسرے آدمی کو دیتا ہے اور خریدنے والا دوسرے آدمی سے کہتا ہے کہ آپ اس جانور کو پالیں ، جانور جو بچے دےگاان کو آپس میں آدھاآدھا تقسیم کریں گے یا ان کو بیچ کر پیسے آپس میں آدھے آدھے تقسیم کریں گے ،اس صورت میں ساری محنت اور اخراجات پالنے والا شخص اٹھائے گااور اصل جانور بدستور پہلے مالک کی ملکیت ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زید بکر کو جانور خرید کر دیتا ہےمثلا پچاس ہزار روپے کا پھر زید بکر کو کہتا ہے کہ آپ اس پر محنت کریں کچھ عرصہ بعد بیچ دیں گے پہلے میرے پچاس ہزار روپے مجھے دیں گے باقی نفع آدھا آدھا کریں گے اس صورت میں محنت اخراجات سارے بکر  اٹھائیں گے ۔
تیسری صورت یہ ہے کہ زید بکر کو جا نور خرید کر دیتا ہے  کہ دو مہینے محنت کریں قربانی کے قریب جانور بیچ دیں گے اور نفع آدھا آدھا کریں  گے، اس صورت میں بکر جانور کو پانی،چارہ کھلاتا ہے اور محنت کرتا ہے بیچ کر آدھے نفع کا حقدار بن جاتا ہے ۔
چوتھی صورت یہ ہے کہ زید بکر کو جانور لےکر دیتا ہے  کہ دو ماہ محنت کریں ماہانہ اجرت پچیس سو یا تین ہزار روپے ملے گا اور چارہ وغیرہ بھی زید بکر کو خرید کر دےگا جب بیچ کر نفع ہوگا تو وہ صرف زید کا ہوگا کیونکہ بکر کو پالنےکی اجرت ملتی رہی ہے ۔
ان صورتوں میں کونسی صورت شریعت کے مطابق صحیح ہے یا مزید کوئی صورت ہے تو وضاحت فرمادیجئے ۔

جواب :

واضح رہے کہ عقد اجارہ میں مدت اجارہ،اجرت کی مقدار اور منفعت کا معلوم ہونا ضروری ہے،بصورت دیگر عقد اجارہ فاسد ہوگا،بصورت مسئولہ سوال میں پہلی تین صورتوں میں اس طرح کا معاملہ کرنا شرعا درست نہیں ،لیکن اگر کسی نے ایسا معاملہ کر ہی لیا ہو تو پھر اصل جانور،جانور سے پیدا ہونے والا بچہ دودھ وغیرہ سب چیزیں اصل مالک کی ہی ملکیت شمار ہونگی ،البتہ پالنے والے مزدور کو گھاس،چارہ وغیرہ کی قیمت اور دیکھ بھال کی اجرت مثل ملے گی یعنی جتنی اجرت ان کاموں  پر لوگوں میں رائج ہے،تاہم سوال میں مذکورہ چوتھی صورت میں اس طرح عقد اجارہ کرنا شرعا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
نیز جواز کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مالک اس جانور کی مناسب قیمت لگاکر آدھا حصہ پرورش کرنےوالے کے ہاتھ فروخت کردے،تو ایسی صورت میں جانور دونوں کے درمیان مشترک ہوگااور بعد میں پھر چارہ کی قیمت اور پرورش کی بات بھی طے کرلی جائےتو مالک اسکی قیمت پالنے کو معاف کردےاور چارے والا  مالک کو چارے وغیرہ کی آدھی قیمت معاف کردے اور آخر میں جب جانور بک جائےتو اس کی قیمت اور نفع دونوں کے درمیان آدھاآدھا(برابر سرابر) تقسیم ہوگا۔
كمافي ردالمحتار على الدرالمختار:
وَعَلَى هَذَا إذَا دَفَعَ الْبَقَرَةَ بِالْعَلَفِ لِيَكُونَ الْحَادِثُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ، فَمَا حَدَثَ فَهُوَ لِصَاحِبِ الْبَقَرَةِ وَلِلْآخَرِ مِثْلُ عَلَفِهِ وَأَجْرُ مِثْلِهِ تَتَارْخَانِيَّةٌ.
(فصل فى الشركة الفاسدة،ج6،ص499،ط:رحمانية)
وفى الهندية:
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه... والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما.
(ألفصل الثالث في قفيزاالطحان ومامعناه من الإجارة،ج7،ص467،ط:رشيدية)
وفى البحرالرائق:
كل جهالة تفسد البيع تفسد الاجارة لان الجهالة المتمكنة في البدل أو المبدل تفضي إلى المنازعة، وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لاحد المتعاقدين يفضي إلى المنازعة فيفسد الاجارة. وفي الغياثية: الفساد قد يكون لجهالة قدر العمل بأن لا يعين محل العمل، وقد يكون لجهالة قدر المنفعة بأن لا يبين المدة، وقد يكون لجهالة البدل أو المبدل، وقد يكون لشرط فاسد مخالف لمقتضى العقد.
(باب الإجارة الفاسدة،ج8،ص29،ط:ألمكتبة الوحيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب