نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںنماز جنازہ میں ثناء کے اندر(وجل ثناؤک) کے الفاظ کا پڑھنا،نہ پڑھنا دونوں جائز ہے،لہذا جو نہ پڑھے اس کو پڑھنے کا نہ کہا جائے اور جو پڑھے اس کو سختی سے نہ روکا جائے،تاہم جو ثناء نماز میں پڑھی جاتی ہے وہی نماز جنازہ میں پڑھنا افضل ہے،اسی طرح وہ درود جس میں (ورحمت وترحمت) کے الفاظ مذکور ہیں پڑھنا جائز ہے،اگرچہ احادیث کی کتب میں اس درود کا ذکر کسی مسند کتاب میں نہیں،البتہ درود ابراہیمی کا پڑھنا افضل ہے۔
الدرالمختار:
(سبحانك اللهم تاركا) وجل ثناؤك إلا في الجنازة.... (وهي أربع تكبيرات).. (يرفع يديه في الأولى فقط).. (ويثني بعدها).. (ويصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم) كما في التشهد.. (قوله كما في التشهد) أي المراد الصلاة الإبراهيمية.
(الجنازة،۲۱۲/۲،دارالفکر)
المحيط البرهاني:
ثم يقول: سبحانك اللهم إلى آخره..... وجلّ ثناؤك..قال شمس الأئمة الحلواني: قال مشايخنا: إن قال وجلّ ثناؤك لم يمنع عنه، وإن سكت عنه لم يؤمر به.
(الصلاة،۳۵۶/۱،دار الكتب العلمية)
البحرالرائق:
قوله: وهي أربع تكبيرات بثناء...والمراد بالصلاة الصلاة عليه في التشهد وهو الاولى
(السلطان احق بالصلاة،۳۲۱/۲،دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔