سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-729 Fatwa no: 1448-729

نماز جنازہ میں کون سا درود پڑھنا افضل ہے ؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز جنازہ میں ثناء کے اندر(وجلّ ثناؤك) پڑهنا افضل ہےیا چھوڑنا،اسی طرح درود ابراہیمی پڑھنا افضل ہے یاجو درود عوام میں مشہورہے جس میں (وَرَحِمتَ،وَتَرَحَمتَ) کے الفاظ ہے؟
جواب :

نماز جنازہ  میں ثناء کے اندر(وجل ثناؤک) کے الفاظ کا پڑھنا،نہ پڑھنا دونوں جائز ہے،لہذا جو نہ پڑھے اس کو پڑھنے کا نہ کہا جائے اور جو پڑھے اس کو سختی سے نہ روکا جائے،تاہم جو ثناء نماز  میں پڑھی جاتی ہے  وہی نماز جنازہ میں پڑھنا افضل ہے،اسی طرح وہ درود جس میں (ورحمت وترحمت) کے الفاظ  مذکور ہیں  پڑھنا جائز ہے،اگرچہ احادیث کی کتب میں  اس درود کا ذکر کسی مسند کتاب میں  نہیں،البتہ درود ابراہیمی کا پڑھنا افضل ہے۔
الدرالمختار:
(سبحانك اللهم تاركا) وجل ثناؤك إلا في الجنازة.... (وهي أربع تكبيرات).. (يرفع يديه في الأولى فقط).. (ويثني بعدها).. (ويصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم) كما في التشهد.. (قوله كما في التشهد) أي المراد الصلاة الإبراهيمية.
(الجنازة،۲۱۲/۲،دارالفکر)
المحيط البرهاني:
ثم يقول: سبحانك اللهم إلى آخره..... وجلّ ثناؤك..قال شمس الأئمة الحلواني: قال مشايخنا: إن قال وجلّ ثناؤك لم يمنع عنه، وإن سكت عنه لم يؤمر به.
(الصلاة،۳۵۶/۱،دار الكتب العلمية)
البحرالرائق:
قوله: وهي أربع تكبيرات بثناء...والمراد بالصلاة الصلاة عليه في التشهد وهو الاولى
(السلطان احق بالصلاة،۳۲۱/۲،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026