سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-731 Fatwa no: 1448-731

نواسے کی پیدائش کے بعد نانا کے گھر سے بکری یا گائے دینے کی رسم اور اس کی ملکیت، منافع، قربانی و تصرف کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں جب لڑکی اپنے والدین کے گھر اپنے بچے(چاہے لڑکی ہو یا لڑکاہو) کے ساتھ پہلی بار آتی ہے تو اس بچے کے نام پر بکری یا گائے دیتے ہیں تو وہ بیٹی اس کو اپنے گھر(سسرال) لے جاتی ہے اور وہاں اس مال کی رکھوالی اس کے سسرال والے کرتے ہیں ،اب اگر کوئی شخص اپنے نواسے وغیرہ کو یعنی اپنی بیٹی کی اولادکو گائے یا بکری دے تو پھر اب پہلاجزء :-اس بکری یا گائے کے بچے پیدا ہوں تو سسرال والوں کے پاس جو بچےپیدا ہوتے ہیں یہ بچے نواسےکے ہونگے یا بیٹی کے سسرال والوں کے، اور جب وہ گائے یا بکری ذبح کیا جائے تو گوشت کو لڑ کی کے سسرال والے کھاتے ہیں بغیر قیمت کے ، اور اس سے دودھ کا فائدہ بھی لیتے ہیں تو یہ مال(گائے یا بکری ) کس کا ہوگا؟ دوسر اجزء:اب ماں اپنے اولاد پر اس مال (گائے یا بکری ) سے خرچ نہ کرے، بلکہ خرچہ والد کرتا ہے اور وہ گائے یا بکری کی قیمت (بیچنے کی وجہ سے) نصاب تک پہنچ جائے تو اس صورت میں کیا اس میں قربانی لازم ہے یا نہیں ، اور اگر اس بچے کی ماں اس پر اس مال سے خرچ کرتی ہے اس کی ضروریات کپڑے وغیرہ اور بیماری میں دوائی اس مال سے لاتی ہے، تو اب ان سب کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بتائیں کہ اس میں قربانی لازم ہے یا نہیں ؟ تیسر اجزء:اگر اس بچے کے مال کولڑکی کے سسرالی گھر کے سربراہ بچے کی اجازت کے بغیر بیچ ڈالے یا ماں کے اجازت کے بغیر بیچ ڈالے اور اس کے حاصل شدہ رقم کو سسرالی گھر کے سربراہ اپنے گھر والوں پر خرچ کرے تو کیا یہ حق اس کو حاصل ہے یا نہیں؟
جواب :

مذکورہ سوالات کے جوابات  ترتیب وار درج ذیل ہیں:
(1) شریعت مطہرہ کی تعلیم کے مطابق      جب کوئی  چیز  کسی شخص  کی ملکیت میں آجائے تو پھر اس میں ہونے والا نفع و نقصان  اسی کا ہوتا  ہے ،لہذا صورت مسئولہ  میں لڑکی کے والدین نے گائے یا  بکری   اپنے نواسے کے لیےدی ہے ؛اس لیے  اس گائے یا بکری سے پیدا  ہونے والے نسل بھی اس ہی کی ہو گی نہ کے سسرال والوں کی ،نیز لڑکی کے سسرال والوں کا   اس جانور کو ذبح کرکے  بغیر کسی عوض کے  اس کا گوشت کھانااور اس  کے دودھ سے فائدہ حاصل کرنا  درست نہیں   چاہے ولی(باپ )کی اجازت سے ہو یا  بچے کی اجازت سے ہو ؛کیونکہ اس میں بچے کے مال کا  ضیاع ہے جس میں  بچے اورولی دونوں  کی اجازت  کا کوئی اعتبار  نہیں ،البتہ ولی  کو  اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اگر ضرورت مند ہو تو  بچے کے مال سے  ضرورت کے بقدر  نفقہ حاصل کر   سکتا ہے ۔ 
(2)قربانی بالغ اور صاحبِ نصاب شخص پر ہوتی ہے ،جبکہ صورت مسئولہ میں جانور بچے کی ملکیت ہے اور بچہ نابالغ ہے اس پر قربانی واجب نہیں ہے، چاہےماں بچے کی ضروریات اسی جانور کی آمدنی سے پوری کر رہی ہے، یا باپ(شوہر)  خود اپنے بچے،بیوی کی ضروریات پورا کرتا ہےتب بھی بچے کے اس  مال  میں قربانی واجب نہیں ہوگی ۔
 (3) ولی یا غیر ولی   کے لیے بچہ کے مال میں ایسا تصرف کرنا جائز نہیں جس میں اس کے مال کا نقصان ہو،لہذاصورت مسئولہ میں  ماں کے سسرالی گھر کے سربراہ کا  جانورکو   بچہ   یا اس کے ولی کی اجازت  کے بغیربیچ کر اس سے حاصل ہونے والی رقم کو  اپنے  تمام گھر والوں پر خرچ کرنا درست نہیں ، بلکہ یہ غصب کے حکم  ہو گا۔

کمافي الدرالمختارمع رد المحتار:
(فَتَجِبُ) التَّضْحِيَةُ: أَيْ إرَاقَةُ الدَّمِ مِنْ النَّعَمِ .....(عَنْ نَفْسِهِ لَا عَنْ طِفْلِهِ) .....(قَوْلُهُ لَا عَنْ طِفْلِهِ) أَيْ مِنْ مَالِ الْأَبِ ط (قَوْلُهُ عَلَى الظَّاهِرِ) قَالَ فِي الْخَانِيَّةِ: فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ وَلَا يَجِبُ، بِخِلَافِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ
(التضحية،ص:315،ج:6،ط؛دارالفكر)
وفي شرح المجلة:
 ( المادة 97 ) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف { لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده } فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.
(وفي قواعد الكلية الفقهية،ص:255،ج:1،ط: انوار القرآن)
وفي الفِقْه الإسلامي وأدلته:
ولا يشترط البلوغ عند الحنفية، فيصح تصرف الصبي المميز البالغ من العمر سبع سنوات كما سيأتي تفصيله، وفي الجملة: إن تصرفات الصبي المميز العاقل تنقسم عند الحنفية إلى ثلاثة أقسام:.آـ التصرفات النافعة نفعاً محضاً: كالاحتطاب والاحتشاش والاصطيادوقبول الهبة والصدقة..... التصرفات الضارة ضرراً محضاً: كالطلاق والهبة والصدقة...... فهذه لا تصح من الصبي العاقل، ولا تنفذ، ولو أجازها وليه؛ لأن الولي لا يملك إجازة هذه التصرفات لما فيها من الضرر.
(ان يكون العاقد عاقلا مميزا،ج:5،ص:3317،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
وجاز للأب المحتاج أن يأخذ نفقته الضرورية من مال الصغير، لقوله تعالى: {ومن كان غنياً فليستعفف ومن كان فقيراً فليأكل بالمعروف} [النساء:6/ 4].
(تصرفات الولي،ص:2994،ج:4،ط: دار الفكر)
وفي تبيين الحقائق:
لِأَنَّ الْمَضْمُونَاتِ تُمْلَكُ عِنْدَ أَدَاءِ الضَّمَانِ مُسْتَنِدٌ إلَى وَقْتِ وُجُودِ سَبَبِ الضَّمَانِ فَصَارَ كَمَا إذَا غَصَبَ جَارِيَةً فَزَنَى بِهَا ثُمَّ ضَمِنَ قِيمَتَهَا فَإِنَّهُ يَسْقُطُ الْحَدُّ بِهِ
(الوطء الذي يوجب الحد،ص:186،ج:3،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026