نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمذکورہ سوالات کے جوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:
(1) شریعت مطہرہ کی تعلیم کے مطابق جب کوئی چیز کسی شخص کی ملکیت میں آجائے تو پھر اس میں ہونے والا نفع و نقصان اسی کا ہوتا ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں لڑکی کے والدین نے گائے یا بکری اپنے نواسے کے لیےدی ہے ؛اس لیے اس گائے یا بکری سے پیدا ہونے والے نسل بھی اس ہی کی ہو گی نہ کے سسرال والوں کی ،نیز لڑکی کے سسرال والوں کا اس جانور کو ذبح کرکے بغیر کسی عوض کے اس کا گوشت کھانااور اس کے دودھ سے فائدہ حاصل کرنا درست نہیں چاہے ولی(باپ )کی اجازت سے ہو یا بچے کی اجازت سے ہو ؛کیونکہ اس میں بچے کے مال کا ضیاع ہے جس میں بچے اورولی دونوں کی اجازت کا کوئی اعتبار نہیں ،البتہ ولی کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اگر ضرورت مند ہو تو بچے کے مال سے ضرورت کے بقدر نفقہ حاصل کر سکتا ہے ۔
(2)قربانی بالغ اور صاحبِ نصاب شخص پر ہوتی ہے ،جبکہ صورت مسئولہ میں جانور بچے کی ملکیت ہے اور بچہ نابالغ ہے اس پر قربانی واجب نہیں ہے، چاہےماں بچے کی ضروریات اسی جانور کی آمدنی سے پوری کر رہی ہے، یا باپ(شوہر) خود اپنے بچے،بیوی کی ضروریات پورا کرتا ہےتب بھی بچے کے اس مال میں قربانی واجب نہیں ہوگی ۔
(3) ولی یا غیر ولی کے لیے بچہ کے مال میں ایسا تصرف کرنا جائز نہیں جس میں اس کے مال کا نقصان ہو،لہذاصورت مسئولہ میں ماں کے سسرالی گھر کے سربراہ کا جانورکو بچہ یا اس کے ولی کی اجازت کے بغیربیچ کر اس سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے تمام گھر والوں پر خرچ کرنا درست نہیں ، بلکہ یہ غصب کے حکم ہو گا۔
کمافي الدرالمختارمع رد المحتار:
(فَتَجِبُ) التَّضْحِيَةُ: أَيْ إرَاقَةُ الدَّمِ مِنْ النَّعَمِ .....(عَنْ نَفْسِهِ لَا عَنْ طِفْلِهِ) .....(قَوْلُهُ لَا عَنْ طِفْلِهِ) أَيْ مِنْ مَالِ الْأَبِ ط (قَوْلُهُ عَلَى الظَّاهِرِ) قَالَ فِي الْخَانِيَّةِ: فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ وَلَا يَجِبُ، بِخِلَافِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ
(التضحية،ص:315،ج:6،ط؛دارالفكر)
وفي شرح المجلة:
( المادة 97 ) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف { لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده } فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.
(وفي قواعد الكلية الفقهية،ص:255،ج:1،ط: انوار القرآن)
وفي الفِقْه الإسلامي وأدلته:
ولا يشترط البلوغ عند الحنفية، فيصح تصرف الصبي المميز البالغ من العمر سبع سنوات كما سيأتي تفصيله، وفي الجملة: إن تصرفات الصبي المميز العاقل تنقسم عند الحنفية إلى ثلاثة أقسام:.آـ التصرفات النافعة نفعاً محضاً: كالاحتطاب والاحتشاش والاصطيادوقبول الهبة والصدقة..... التصرفات الضارة ضرراً محضاً: كالطلاق والهبة والصدقة...... فهذه لا تصح من الصبي العاقل، ولا تنفذ، ولو أجازها وليه؛ لأن الولي لا يملك إجازة هذه التصرفات لما فيها من الضرر.
(ان يكون العاقد عاقلا مميزا،ج:5،ص:3317،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
وجاز للأب المحتاج أن يأخذ نفقته الضرورية من مال الصغير، لقوله تعالى: {ومن كان غنياً فليستعفف ومن كان فقيراً فليأكل بالمعروف} [النساء:6/ 4].
(تصرفات الولي،ص:2994،ج:4،ط: دار الفكر)
وفي تبيين الحقائق:
لِأَنَّ الْمَضْمُونَاتِ تُمْلَكُ عِنْدَ أَدَاءِ الضَّمَانِ مُسْتَنِدٌ إلَى وَقْتِ وُجُودِ سَبَبِ الضَّمَانِ فَصَارَ كَمَا إذَا غَصَبَ جَارِيَةً فَزَنَى بِهَا ثُمَّ ضَمِنَ قِيمَتَهَا فَإِنَّهُ يَسْقُطُ الْحَدُّ بِهِ
(الوطء الذي يوجب الحد،ص:186،ج:3،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔