سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-732 Fatwa no: 1448-732

اسلامک نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ کے تحت میزان بینک میں مضاربہ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ( ISLAMIC NAYA PAKISTAN CERTIFICATE) اسلامک نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ کے تحت میزان بینک میں مضاربہ وغیرہ یا کسی بھی سطح میں انویسٹ کیا جا سکتا ہے ؟ تنقیح: اسلامک نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ یہ سکیم باہر کے ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے ہے یا وہ لوگ جن کے اکاؤنٹ باہر ملک میں موجود ہیں اگرچہ وہ پاکستان میں ہی ہوں وہ اس مد کے تحت اپنے پیسے میزان بینک میں انویسٹ کر تے ہیں اس سکیم سے ان لوگوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بینک ان کے انویسٹ کیے ہوئے مال سے مضاربت کرتا ہے اور نفع کا متعین فیصد ان کو فراہم کرتا ہے اس میں کسی بھی قسم کاسود کامعاملہ نہیں ہوتا ،بلکہ تمام کام اسلامی اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں ، بینک پیسہ دینے والے سے مضاربت کا معاملہ کرتا ہے اور نفع کی مقدار فیصد کے اعتبار سے متعین کرتا ہے اور نقصان کی صورت میں نفع نہیں دیتا ،بلکہ رب المال کو اس نقصان میں شریک کرتا ہے بینک لوگوں کے ساتھ مختلف ایگریمنٹ کرتی ہیں بعض کے ساتھ سال کا بعض کے ساتھ پانچ سال کا اسی طرح ان کی نفع کی بھی تقسیم ہوتی ہے مثلاً سال کے ایگریمنٹ میں نفع تیرہ فیصد متعین ہوتا ہے اور جتنا لمبا ایگریمنٹ ہوتا ہے اتنا ہی نفع میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔
جواب :

 بصورت مسئولہ اگر مذکور ہ اسلامک نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ کا معاملہ   اسی طرح   ہے اورآپ کی معلومات صحیح ہیں  تو اس مد (اسلامک نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ) کے تحت  میزان بینک میں مضاربہ  کے طور پر   یا کسی اورعقد مثلاً شرکت کے طور پرسرمایہ کاری درست ہے 
كما في الدرالمختار مع ردا لمحتار:
كِتَابُ الْمُضَارَبَةِ.(هِيَ) لُغَةً مُفَاعَلَةٌ مِنْ الضَّرْبِ فِي الْأَرْضِ وَهُوَ السَّيْرُ فِيهَا وَشَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ….(وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَتْ (وَكَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْهُمَا مَعْلُومًا) عِنْدَ الْعَقْدِ.
وَمِنْ شُرُوطِهَا: كَوْنُ نَصِيبِ الْمُضَارِبِ مِنْ الرِّبْحِ حَتَّى لَوْ شَرَطَ لَهُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ أَوْ مِنْهُ وَمِنْ الرِّبْحِ فَسَدَتْ، وَفِي الْجَلَّالِيَّةِ كُلُّ شَرْطٍ يُوجِبُ جَهَالَةً فِي الرِّبْحِ أَوْ يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ فِيهِ يُفْسِدُهَا، وَإِلَّا بَطَلَ الشَّرْطُ وَصَحَّ الْعَقْدُ اعْتِبَارًا بِالْوَكَالَةِ
(كتاب المضاربة،ص:645،ج:5،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026