سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-733 Fatwa no: 1448-733

نَیوتہ کی رسم کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شادیوں میں جو لوگ دولہے کو سلامی کے نام پے رقم دیتے ہیں وہ اس کو لکھ لیتے ہیں باقاعدہ دولہے کے ساتھ ایک شخص کا پی پر اس کو نوٹ کرتا ہے ا س کونیوتہ کا نام دیا جاتا ہے ؛تاکہ بعدمیں ان کی شادی (چاہے وہ رقم دینے والے کی ہویا اس کے خاندان میں سے کسی کی ہو)پر ان کو اتنی رقم یا اس سے زیادہ دینگے یہ عمل کیسا ہے؟
جواب :

بصورت مسئولہ  شادی کے موقع پر نیوتہ کے نام سے جو رقم    دولہے   کو دی جاتی ہے   وہ بطور قرض  کے سمجھی جاتی ہے   جیسے سوال سے بھی   یہی معلوم ہو رہا ہے  کہ  دولہے کو رقم دینے کے بعد اس کو  ایک شخص  کاپی پر لکھ  لیتا ہے ؛تاکہ بعد میں   ان کی شادی  میں اتنی رقم یا زیادہ واپس کر دی جائے  ، یہ نیوتہ کا لینا چند وجوہ سے جائز نہیں۔
(1):اس رقم کی ادائیگی کا پختہ علم نہیں ہے کہ کب ادا کی جائے گی،جیسے سوال میں ہے کہ جس نے رقم دی ہے  اس کی شادی  میں یا اس کے خاندان  کی شادی میں بعد میں  اتنی رقم یا زیادہ واپس کر دی جائے گی ۔
(2):اور یہ بھی  معلوم نہیں ہے کہ دینے ولا اس وقت تک  زندہ رہے گا یا نہیں
(3):عموماً اس رقم کی واپسی پر کچھ رقم زائد  دی  جاتی ہے جو جائز نہیں ؛کیونکہ یہ رقم قرض ہے اور قرض میں مثل سے زیادہ  دینا جائز نہیں
  مذکورہ تمام وجوہات کی وجہ سے نیوتہ کا  لینا جائز نہیں۔
كمافي مرقاة المفاتيح:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ»
(الغصب،ص:1974،ج:5،ط: دار الفكر)
 وفي ردالمحتار:
أَهْدَيْت لِلزَّوْجِ أَوْ الْمَرْأَةِ كَمَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة.وَفِي الْفَتَاوَى الْخَيْرِيَّةِ سُئِلَ فِيمَا يُرْسِلُهُ الشَّخْصُ إلَى غَيْرِهِ فِي الْأَعْرَاسِ وَنَحْوِهَا هَلْ يَكُونُ حُكْمُهُ حُكْمَ الْقَرْضِ فَيَلْزَمُهُ الْوَفَاءُ بِهِ أَمْ لَا؟ أَجَابَ: إنْ كَانَ الْعُرْفُ بِأَنَّهُمْ يَدْفَعُونَهُ عَلَى وَجْهِ الْبَدَلِ يَلْزَمُ الْوَفَاءُ بِهِ مِثْلِيًّا فَبِمِثْلِهِ، وَإِنْ قِيَمِيًّا فَبِقِيمَتِهِ وَإِنْ كَانَ الْعُرْفُ خِلَافَ ذَلِكَ بِأَنْ كَانُوا يَدْفَعُونَهُ عَلَى وَجْهِ الْهِبَةِ، وَلَا يَنْظُرُونَ فِي ذَلِكَ إلَى إعْطَاءِ الْبَدَلِ فَحُكْمُهُ حُكْمُ الْهِبَةِ فِي سَائِرِ أَحْكَامِهِ فَلَا رُجُوعَ فِيهِ بَعْدَ الْهَلَاكِ أَوْ الِاسْتِهْلَاكِ، وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ الْمَعْرُوفَ عُرْفًا كَالْمَشْرُوطِ شَرْطًا اهـ.
قُلْت: وَالْعُرْفُ فِي بِلَادِنَا مُشْتَرَكٌ نَعَمْ فِي بَعْضِ الْقُرَى يَعُدُّونَهُ فَرْضًا حَتَّى إنَّهُمْ فِي كُلِّ وَلِيمَةٍ يُحْضِرُونَ الْخَطِيبَ يَكْتُبُ لَهُمْ مَا يُهْدَى فَإِذَا جَعَلَ الْمُهْدِي وَلِيمَةً يُرَاجِعُ الْمُهْدَى الدَّفْتَرَ فَيُهْدِي الْأَوَّلُ إلَى الثَّانِي مِثْلَ مَا أَهْدَى إلَيْهِ
(كتاب الهبة،ص:696،ج:5،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَالْعَيْنُ الْعِوَضُ) بِشَرْطِ أَنْ يَذْكُرَ لَفْظًا يَعْلَمُ الْوَاهِبُ أَنَّهُ عِوَضُ كُلِّ هِبَتِهِ (فَإِنْ قَالَ: خُذْهُ عِوَضَ هِبَتِك أَوْ بَدَلَهَا) أَوْ فِي مُقَابَلَتِهَا وَنَحْوِ ذَلِكَ (فَقَبَضَهُ الْوَاهِبُ سَقَطَ الرُّجُوعُ)
(الرجوع في الهبة،ص:702،ج:5،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:  
أن الديون تقضى بأمثالها.                     
(ج:3،ص:605،ط:دارالفكر)
وفي تبيين الحقائق:
أَمَّا تَفْسِيرُهَا لُغَةً فَهِيَ إعْطَاءُ الشَّيْءِ بِغَيْرِ عِوَضٍ أَيَّ شَيْءٍ كَانَ مَالًا كَانَ أَوْ غَيْرَ مَالٍ قَالَ تَعَالَى {يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ}
(الهبة،ص:91،ج:5،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026