سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-75 Fatwa no: 1447-75

کس وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے ؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: جہاد کے فرض عین ہونے کی شرائط کیا کیا ہیں ؟
جواب :

شریعت مطہرہ میں بعض حالات میں ہر مسلمان پر جہاد  فرض عین ہوجاتاہے اور یہ حکم دو صورتوں میں پایا جاتا ہے،ایک صورت یہ ہے کہ کفارمسلمانوں کے کسی شہر  پر حملہ کریں تو اب اس شہر اور ملک کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہے کہ وہ کفار کا مقابلہ کریں ،اگر اس شہر کے مسلمان کافی نہ ہوں تو پھر قریب ترین شہرمیں رہنے  والے مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے ۔
اور دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایساحاکم جو آزاد ہو،مسلمان ہو،عاقل وبالغ ہو،احکام اسلام نافذکرنے پر اوراسلامی سرحد کی حفاظت اور دشمنوں کے مقابلے میں لشکر کشی کرنے پر قادر ہو ،ظالم ومظلوم کے درمیان انصاف کرنے پر قادر ہو وہ  جہاد کا اعلان کرے کہ تمام لوگ جہاد کے لئے نکلیں ،تو ایسی صورت میں بھی تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے، جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو جہاد کیلئے نکلنے کاحکم دیا تھا ۔
كما في تفسير ابن كثير:
قال الله تعالى:انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ.وفيه .....أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِالنَّفِيرِ الْعَامِّ مَعَ الرَّسُولِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، لِقِتَالِ أَعْدَاءِ اللَّهِ مِنَ الرُّومِ الْكَفَرَةِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وحَتَّم عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فِي الْخُرُوجِ مَعَهُ عَلَى كُلِّ حَالٍ فِي المَنْشَط والمَكْرَه وَالْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، فَقَالَ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا}وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: كُهُولًا وشَبَابًامَا أَسْمَعُ اللَّهَ عَذَر أَحَدًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتل.
(سورة توبة،آيت41،ج4،ص156،ط: دار طيبة للنشر والتوزيع)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
وَيُشْتَرَطُ كَوْنُهُ مُسْلِمًا حُرًّا ذَكَرًا عَاقِلًا بَالِغًا قَادِرًا....
وَقَوْلُهُ قَادِرًا: أَيْ عَلَى تَنْفِيذِ الْأَحْكَامِ وَإِنْصَافِ الْمَظْلُومِ مِنْ الظَّالِمِ، وَسَدِّ الثُّغُورِ؛ وَحِمَايَةِ الْبَيْضَةِ وَحِفْظِ حُدُودِ الْإِسْلَامِ؛ وَجَرِّ الْعَسَاكِر.
(باب الامامة،ج1،ص548،ط:دارالفكر)
وفي فتاوى الهندية:
وعامة المشايخ رحمهم الله تعالى قالوا الجهاد فرض على كل حال غير أنه قبل النفير فرض كفاية وبعد النفير فرض عين وهو الصحيح، ومعنى النفير أن يخبر أهل مدينة أن العدو قد جاء يريد أنفسكم وذراريكم وأموالكم فإذا أخبروا على هذا الوجه افترض على كل من قدر على الجهاد من أهل تلك البلدة أن يخرج للجهاد .
(كتاب السير،ج2،ص188،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
وَأَمَّا بَيَانُ كَيْفِيَّةِ فَرْضِيَّةِ الْجِهَادِ، فَالْأَمْرُ فِيهِ لَا يَخْلُو مِنْ أَحَدِ وَجْهَيْنِ، إمَّا إنْ كَانَ النَّفِيرُ عَامًّا وَإِمَّا إنْ لَمْ يَكُن.... فَأَمَّا إذَا عَمَّ النَّفِيرُ بِأَنْ هَجَمَ الْعَدُوُّ عَلَى بَلَدٍ، فَهُوَ فَرْضُ عَيْنٍ يُفْتَرَضُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ آحَادِ الْمُسْلِمِينَ مِمَّنْ هُوَ قَادِرٌ عَلَيْهِ؛ لِقَوْلِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا}قِيلَ: نَزَلَتْ فِي النَّفِيرِ.
(كتاب السير،ج9،ص376،ط:قديمي كتب خانة)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب