سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-735 Fatwa no: 1448-735

ہنڈی کے ذریعے کرنسی کے تبادلے میں ادھار کی صورت میں زائد رقم وصول کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم ہنڈی کے زریعے پیسے چائنہ بھیجتے ہیں حوالے والا ریٹ دیتا ہے (جب معاملہ نقدکیش میں ہو)کہ آج ایک چائنہ کرنسی (RMB)كا مارکیٹ ریٹ پاكستانی چالیس روپے) PKR)کے برابر ہے ،لیکن اگرہم ان سے کہیں کہ تیس ہزار چائنہ کرنسی(RMB)ہمیں بھیج دو اس کے بدلے میں پاکستانی پیسے ہم ہفتہ وار دیتے رہیں گے تو پھر حوالے والا اس کا ریٹ چالیس کے بجائے بیالیس لگا کر وصول کرتا ہےمثلاً اگر تیس ہزار چائنہ کرنسی کے ساتھ پاکستانی پیسوں کا تبادلہ کیا جائے اور وہ نقد کی صورت میں ہو تو ایک چائنی پیسہ کا چالیس پاکستانی پیسوں کے حساب سے ریٹ لگتا ہے یعنی تیس ہزارچائنہ کرنسی پر پاکستانی بارہ لاکھ لیتا ہے ،لیکن اگر وہ نقد نہ ہو،بلکہ ہفتہ وار ادا کرنے ہوں تو چالیس کے بجائے بیالیس کے حساب سے ریٹ لگتاہےیعنی تیس ہزار پر پاکستانی بارہ لاکھ ساٹھ ہزار وصول کرتا ہے کیا اس طریقہ سے حوالے کا یہ معاملہ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
جواب :

 صورت مسئولہ میں چونکہ حوالے  والے نے    ہفتہ وار کی ادائیگی کی صورت میں  مارکیٹ ریٹ (جو عقد کے وقت چالیس تھا)سے زیادہ وصول کرنے کی شرط لگائی ہے اس شرط کے ساتھ حوالے کا یہ معاملہ کرنا جائز نہیں اس لیے کے یہ ربا کا حیلہ بنتا ہے  اور کرنسی کے باہمی لین دین میں اس(عقد کے) دن کی بازاری  قیمت کے مطابق لین دین کرنا ضروری ہے  ،لہذا اس سے زیادہ  ریٹ لگانا جائز نہیں ۔
كمافي بحوث في قضايا فقهية:
 معاصرة ثم إن هذه الأوراق النقدية، وإن كان لا يجوز فيها التفاضل، ولكن بيعها ليس بصرف... فلايشترط فيه التقابض في مجلس العقد، نعم يشترط قبض أحد البدلين عند الإمام أبي حنيفة وأصحابه لأن الفلوس عندهم لا تتعين بالتعيين، فلو افترقا دون أن يقبض أحد البدلين، لزم الافتراق عن دين بدين...... وهل يجوز هذا البيع نسيئة؟ كما هو معمول به اليوم عند كثير من التجار وعامة الناس أنهم يعطون عملة بلدهم، بشرط أن يؤدي الآخذ بدلها في شكل عملة بلد آخر بعد مدة، مثل أن يعطي زيد عمرا ألف ريال سعودي في المملكة السعودية، بشرط أن يؤدي عمرو بدلها أربعة آلاف ربية باكستانية في باكستان، فأما عند الحنفية فيجوز هذا البيع؛ لأن الأثمان لا يشترط فيها كونها مملوكة للعاقد عند البيع عندهم، فيصح فيها التأجيل عند اختلاف الجنس.... ولكن جواز النسيئة في تبادل العملات للمختلفة يمكن أن يتخذ حيلة لأكل الربا فمثلا إذا أراد للمقرض أن يطالب بعشر ربيات على المائة لمقرضة فإنه يبيع مئة ربية نسيئة بمقدار من الدولارات التي تساوي مئة وعشر ربيات وسدا لهذا الباب فإنه ينبغي أن يقيد جواز النسيئة في بيع العملات أن يقع ذلك على سعر سوق السائد عند العقد.
(احکام اوراق النقدية،ص:169،171،ط:دارالقلم)
وفي المعايير الشرعية:
يتحقق القبض الحكمي اعتبارا وحكما بالتخلية مع التمكين من التصرف ولويتحقق القبض الحكمي اعتبارا وحكما بالتخلية مع التمكين من التصرف ولو لم يوجد القبض بحساء ومن صور القبض الحكمي المعتبرة شرعا وعرفا ما يأتي: (أ) القيد للمصرفي لمبلغ من المال في حساب العميل في الحالات الآتية:إذا أودع في حساب العميل مبلغ من المال مباشرة أو بحوالة مصرفية
"اجتماع الصرف والحوالة المصرفية":
يجوز إجراء حوالة مصرفية بعملة مغايرة للمبلغ للمقدم من طالب الحوالة، وتتكون تلك العملية من صرف بقبض حقيقي أو حكمي بتسليم المبلغ لإثباته بالقيد المصرفي، ثم حوالة (تحويل ) للمبلغ بالعملة للمشتراة من طالب الحوالة. ويجوز للمؤسسة أن تتقاضى من العميل أجرة التحويل
 (المتاجرة في العملات،ص:57،60)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026