سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-736 Fatwa no: 1448-736

ہاسٹل کے رہائشیوں کی مجرمانہ کارروائی کے نتیجے میں مالکان کو ہونے والے مالی نقصانات کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ہاسٹل جوکہ پاٹنر شپ پے تھا ،تقریباً چھ ماہ تک چلا جوکہ فریقین نے سات لاکھ میں خریدا تھا ،جو کاروبار کے لحاظ سے اچھا چل رہاتھا،اب اس ہاسٹل کے اندر جو لوگ مکین تھے ان میں سے دو بندوں نے ہاسٹل سے باہر ڈکیتی کی واردات کی اب موقع واردات سے پولیس نے تفتیش شروع کی،کرتے کرتے پولیس ہاسٹل تک آ پہنچی اصل مجرم نہ ملنے پر پولیس نے ہاسٹل مالکان پر ایف آئی آر کاٹی اور ہاسٹل مالکان کو گرفتار کرلیا،اب چونکہ مالکان ہاسٹل تقریباً دو ہفتے تھانے و جیل میں رہےجس کی وجہ ہاسٹل بند ہوگیا،اور مالکان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد عدالت و تھانے اور ہاسٹل کے نقصان کا ذمہ دار وارداتی ہونگے کہ نہیں؟ برائے مہربانی اس تحریر کردہ سوال کا مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر  ہاسٹل میں رہنے والے وارداتیوں پر اثبات جرم ہو گیاہےاور مالکان  کو  ان کی ڈکیتی کے  بارے میں کو ئی علم نہیں تھا اور نہ ہی اس معاملے میں وہ ان کے ساتھ شریک تھےتو اس صورت میں   ان  مالکان کا جتنا  حقیقی نقصان ہوا ہےوہ ان وارداتی  بندوں سے وصول کر سکتے ہیں    بصورت دیگر  وصول نہیں کر سکتے ۔
كما في القرآن المجيد:
وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(الانعام،آية،164،پاره:7)
وفيه ايضا:
وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
(المائدة،آية:1،پاره:6)
وفي مرقاة المفاتيح:
(عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ) : بِضَمِّ النُّونِ أَيْ: الْغَارَةِ.
(باب الغصب،ص:1971،ج:5،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
من أعان على معصية، فهو شريك في الإثم.
(باب الموشومة،ص:185۔ج:28،ط: دار النوادر)
وفي الفقه الاسلامي:
والتضمين: هو إيجاب الضمان أوالتعويض على من أتلف شيئاً لغيره، أو غصب منه شيئاً فهلك أو فقد، أو ألحق ضرراً بغيره بجناية أو تسبب.
(التولد من المملوك،ص:2914،ج:4،ط: دار الفكر)
في بدائع الصنائع:
وَالثَّانِي أَنَّ مُطْلَقَ اسْمِ الْمِثْلِ يَنْصَرِفُ إلَى مَا عُرِفَ مِثْلًا فِي أُصُولِ الشَّرْعِ، وَالْمِثْلُ الْمُتَعَارَفُ فِي أُصُولِ الشَّرْعِ، هُوَ الْمِثْلُ مِنْ حَيْثُ الصُّورَةُ وَالْمَعْنَى، أَوْ مِنْ حَيْثُ الْمَعْنَى وَهُوَ الْقِيمَةُ كَمَا فِي ضَمَانِ الْمُتْلَفَاتِ،فَإِنَّ مَنْ أَتْلَفَ عَلَى آخَرَ حِنْطَةً يَلْزَمُهُ حِنْطَةٌ.وَمَنْ أَتْلَفَ عَلَيْهِ عَرْضًا تَلْزَمُهُ الْقِيمَةُ.
(فَصْلٌ بَيَانُ حُكْمِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْمُحْرِمِ،ص:199،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026