سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-737 Fatwa no: 1448-737

تعمیرِ مسجد کی وصیت کی صورت میں رقم دوسری مسجد میں خرچ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرنے کے وقت ایک آدمی نے وصیت کی کہ میری رقم سے زمین خرید کرمسجد بنائی جائے،اب اس کے تہائی مال کو کسی دوسری تعمیر ہونے والی مسجد میں لگایا جاسکتا ہےیا نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ اعمال صالح کے لیے وصیت کر نا مستحب ہے،البتہ اگر میت نے اپنی رقم کی وصیت ایسے کام کے لیے کی ہو جو ثلث  مال سے پورا کیا جاسکتا ہو،تو وصیت کے مطابق عمل کرنا  لازمی ہےاور اگر ثلث  مال سے وصیت کو پورا نہ کیا جا سکتا  ہو،تواس رقم کو وصیت کیے ہوئے کام کے ہم جنس میں لگا کر وصیت کو پورا کیا جائے گا،لہذا صورت مسئولہ میں  اگرمیت کی رقم  (ثلث مال )سے زمین خرید کر اس پر مسجد بنائی جا سکتی ہو،تو اس مال کو دوسری تعمیر ہونے والی مسجد میں نہیں لگایا جائے گا،تاہم اگر  مسجد نہیں بنائی جا سکتی ہو ،تو اس رقم کو دوسری تعمیر ہونے والی مسجد میں لگایا جاسکتاہے۔
سنن الترمذي:
عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ما حق امرئ مسلم يبيت ليلتين وله شيء يوصي فيه إلا ووصيته مكتوبة عنده.
(باب ماجاء في الحچ علي الوصية،ص:26،ج:4،ط:البشري)
المحيط البرهاني:
وإنفاذ وصاياه من ثلث ماله من غير تغيير ولا تبديل،فمن بدله بعد ما سمعه، فإنما إثمه علي الذين يبدلونه إن الله سميع عليم.
(الوصية،۲۹۶/۲۱،ادارة القرآن)
بدائع الصنائع:
وأما وجه رواية اعتبار الثلث كثيرا فلقول النبي في باب الوصية الثلث الثلث كثير جعل عليه الصلاة والسلام الثلث كثيرا مطلقا وأما وجه رواية اعتباره قليلا فاعتباره بالوصية لأن الشرع جوز الوصية بالثلث ولم يجوز بما زاد على الثلث فدل أنه إذا لم يزد على الثلث.
فصل واما شرائط جواز اقامة الواجب،۷۵/۵، رشيدية))
الفقه الاسلامي:
اتفق الفقهاء على صحة الوصية لجهة عامة كالمساجدويصرف الموصى به بحسب شرط الموصي إذا لم يصادم مقاصد الشريعة،تصح الوصية لجهة معينة من جهات البر ستوجد 
في المستقبل، فإن تعذر وجودها، صرفت الوصية إلى أقرب مجانس لتلك الجهة.
(الفصل الرابع عشر في الوصايا،۶۸/۲۲،إدارةالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026