سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-738 Fatwa no: 1448-738

زیورات کی وصیت اور ورثاء کے حقِ میراث کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے مرنے سے پہلے وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد جو میرے زیورات ہیں ان کو فروخت کر کے میرے کفن ودفن کے اخراجات نکالیں اس کے بعد جو بچ جائے اس کو میرے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا ورثاء میں سے کوئی وارث اس کے مال میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے؟
جواب :

جب آدمی مر جائے تو اس کے مال سے سب سے پہلے اس کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں ، اس کے بعد اگر میت پر کسی کا قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے  لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال سے ادا کی جائے گی ،اس کے بعد مرحوم کے  باقی ماندہ ترکہ    کو اس کے ورثاء  کے درمیان ان کے حصے کے بقدر تقسیم کیا جائے،   لہذا  صورت مسئولہ مذکورہ عورت  کی وفات کے بعد  سب سے پہلےاس کے  مال سے  کفن ودفن کے اخراجات نکالے جائیں گے  اس  کے بعد   اگراس پرکسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا  اس کے بعد  باقی ماندہ ترکہ کےتہائی مال سے اس کی وصیت پوری کی جائیگی اور باقی مال کو ورثاء کے درمیان  شریعت کے مطابق انکے حصہ کے بقدر تقسیم کیا جائے گا۔ 
كما في سنن الترمذي:
عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ما حق امرئ مسلم يبيت ليلتين وله شيء يوصي فيه إلا ووصيته مكتوبة عنده.
(باب ماجاء في الحچ علي الوصية،ص:26،ج:4،ط:البشري)
وفي الفقه الاسلامي:
اتفق الفقهاء على صحة الوصية لجهة عامة كالمساجدويصرف الموصى به بحسب شرط الموصي إذا لم يصادم مقاصد الشريعة،تصح الوصية لجهة معينة من جهات البر ستوجد في المستقبل، فإن تعذر وجودها، صرفت الوصية إلى أقرب مجانس لتلك الجهة.
(الفصل الرابع عشر في الوصايا،ص:68،ج:22،ط:إدارةالقرآن)
وفيه ايضا:
فالإرث حق جبري، ولا يجوز الإيصاء بأكثر من ثلث المال. 
(توزيع المال بعد الوفاة،ص:4984،ج:7،ط:دارالفكر)
وفي المحيط البرهاني:
وإنفاذ وصاياه من ثلث ماله من غير تغيير ولا تبديل،فمن بدله بعد ما سمعه، فإنما إثمه علي الذين يبدلونه إن الله سميع عليم.
(الوصية،ص:68،ج:22،ادارةالقرآن)
وفي بدائع الصنائع:
وأما وجه رواية اعتبار الثلث كثيرا فلقول النبي في باب الوصية الثلث الثلث كثير جعل عليه الصلاة والسلام الثلث كثيرا مطلقا وأما وجه رواية اعتباره قليلا فاعتباره بالوصية لأن الشرع جوز الوصية بالثلث ولم يجوز بما زاد على الثلث فدل أنه إذا لم يزد على الثلث.
(فصل واما شرائط جواز اقامة الواجب،ص:75،ج:5،ط:رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026