سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-739 Fatwa no: 1448-739

وقت گزرنے کے گمان سے وقت کے اندرقضاء کی نیت سے نمازپڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک آدمی ظہر کے وقت نیند کی وجہ سے دیر سے اٹھا اس کو یہ اندیشہ ہوا کہ ظہر کی نماز کا وقت گزر چکا ہے پھراس نے ظہر کی قضاء نماز پڑھ لی بعد میں اس کو معلوم ہوا کہ ابھی ظہر کی نماز کا وقت نہیں گزرا ہے ،تو پوچھنا یہ ہے کہ آیا اب اس کے لیے کیا حکم ہے کہ وہ دوبارہ ظہر کی نماز ادا کرے یا جو پہلے ظہر کی قضاء کے طور پر نماز پڑھی وہ کافی ہے ؟
جواب :

بصورت مسئولہ مذکورہ شخص نے  جو ظہر کی  نماز قضاء کی نیت سے ادا کی ہے اس سے  فرض نماز ادا ہوگئی ہے اس   لیے  دوبارہ نماز کا اعادہ کرنا لازم نہیں ،باقی گمان(ظہر کی نماز کا وقت گزر چکا  ہے) کے غلط ہونے سے    نماز میں   کوئی خلل نہیں آتا ؛کیونکہ   اصل  تو ظہر کی نماز کی ادائیگی ہے اور وہ ہو چکی ہے۔
كما في البحرالرائق:
أَنَّ الْوَقْتِيَّةَ هَلْ تَتَأَدَّى بِنِيَّةِ الْقَضَاءِ الْمُخْتَارِ أَنَّهُ يَجُوزُ... وَإِنْ شَكَّ فِي خُرُوجِهِ فَنَوَى فَرْضَ الْوَقْتِ جَازَ بِنَاءً عَلَى جَوَازِ الْقَضَاءِ بِنِيَّةِ الْأَدَاءِ.... عَنْ التَّتَارْخَانِيَّة كُلُّ وَقْتٍ شَكَّ فِي خُرُوجِهِ فَنَوَى ظُهْرَ الْوَقْتِ مَثَلًا فَإِذَا هُوَ قَدْ خَرَجَ الْمُخْتَارُ الْجَوَازُ
(شروط الصلاة،ص:295،ج:1،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الدرالمختار مع رد المحتار:
نِيَّةُ ظُهْرِ الْيَوْمِ لِجَوَازِهِ مُطْلَقًا لِصِحَّةِ الْقَضَاءِ بِنِيَّةِ الْأَدَاءِ كَعَكْسِهِ هُوَ الْمُخْتَارُ 
(قَوْلُهُ لِصِحَّةِ الْقَضَاءِ بِنِيَّةِ الْأَدَاءِ إلَخْ) ...لوَعَكْسُهُ كَنِيَّةِ مَنْ نَوَى قَضَاءَ الظُّهْرِ عَلَى ظَنِّ أَنَّ الْوَقْتَ قَدْ خَرَجَ وَلَمْ يَخْرُجْ بَعْدُ... وَالصِّحَّةُ فِيهِ بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَتَى بِأَصْلِ النِّيَّةِ، وَلَكِنْ أَخْطَأَ فِي الظَّنِّ وَالْخَطَأُ فِي مِثْلِهِ مَعْفُوٌّ عَنْهُ.
(شروط الصلاة،ص:422،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
قال الحنفية: يجوز الأداء بنية القضاء وبالعكس في الصلاة والحج.
(كيفية النية،ص:179،ج:1،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026