نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ مذکورہ شخص نے جو ظہر کی نماز قضاء کی نیت سے ادا کی ہے اس سے فرض نماز ادا ہوگئی ہے اس لیے دوبارہ نماز کا اعادہ کرنا لازم نہیں ،باقی گمان(ظہر کی نماز کا وقت گزر چکا ہے) کے غلط ہونے سے نماز میں کوئی خلل نہیں آتا ؛کیونکہ اصل تو ظہر کی نماز کی ادائیگی ہے اور وہ ہو چکی ہے۔
كما في البحرالرائق:
أَنَّ الْوَقْتِيَّةَ هَلْ تَتَأَدَّى بِنِيَّةِ الْقَضَاءِ الْمُخْتَارِ أَنَّهُ يَجُوزُ... وَإِنْ شَكَّ فِي خُرُوجِهِ فَنَوَى فَرْضَ الْوَقْتِ جَازَ بِنَاءً عَلَى جَوَازِ الْقَضَاءِ بِنِيَّةِ الْأَدَاءِ.... عَنْ التَّتَارْخَانِيَّة كُلُّ وَقْتٍ شَكَّ فِي خُرُوجِهِ فَنَوَى ظُهْرَ الْوَقْتِ مَثَلًا فَإِذَا هُوَ قَدْ خَرَجَ الْمُخْتَارُ الْجَوَازُ
(شروط الصلاة،ص:295،ج:1،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الدرالمختار مع رد المحتار:
نِيَّةُ ظُهْرِ الْيَوْمِ لِجَوَازِهِ مُطْلَقًا لِصِحَّةِ الْقَضَاءِ بِنِيَّةِ الْأَدَاءِ كَعَكْسِهِ هُوَ الْمُخْتَارُ
(قَوْلُهُ لِصِحَّةِ الْقَضَاءِ بِنِيَّةِ الْأَدَاءِ إلَخْ) ...لوَعَكْسُهُ كَنِيَّةِ مَنْ نَوَى قَضَاءَ الظُّهْرِ عَلَى ظَنِّ أَنَّ الْوَقْتَ قَدْ خَرَجَ وَلَمْ يَخْرُجْ بَعْدُ... وَالصِّحَّةُ فِيهِ بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَتَى بِأَصْلِ النِّيَّةِ، وَلَكِنْ أَخْطَأَ فِي الظَّنِّ وَالْخَطَأُ فِي مِثْلِهِ مَعْفُوٌّ عَنْهُ.
(شروط الصلاة،ص:422،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
قال الحنفية: يجوز الأداء بنية القضاء وبالعكس في الصلاة والحج.
(كيفية النية،ص:179،ج:1،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔