سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-740 Fatwa no: 1448-740

وکیل کا مستحق زکوۃ ہونے کی صورت میں زکوۃ کے پیسےلینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی آدمی کسی کو پیسے دے کر کہے کہ یہ زکوۃکے پیسے ہیں کسی مستحق کو دے دو،توکیا وہ آدمی اس کو خود استعمال کر سکتا ہے اگر وہ مستحق زکوۃ ہو؟
جواب :

وکیل کے لیے مؤکل کے مال  کو بغیر  مؤکل کی اجازت کے استعمال کرناجائز نہیں ،لہذا اگر  کسی آدمی نے کسی دوسرے آدمی کو پیسے  دے کر کہا کہ یہ پیسے زکوۃ کے ہیں کسی مستحق کو دے دینا،تو وکیل کو خود مستحق ہونے کی صورت میں اس کو استعمال کرنا مؤکل کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے ۔
الدرالمختار:
وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت
(الزكاة،۲۶۹/۲،دارالفکر)
حاشيةالطحطاوی:
وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت
(قوله الا اذا قال ربهاالخ)يعني وكان مصرفا لها والا لا ولو قاله
(الزكوة،۱۷۰/۳،الوحيدية)
الفقه الاسلامي:
وللوكيل أن يدفع الزكاة لولده الفقير أو زوجته الفقيرة إذا لم يأمره بالدفع إلى شخص معين، ولا يجوز له أن يأخذ الزكاة لنفسه إلا إذا قال له الموكل: ضعها حيث شئت.
(في اداء الزكاة،۱۹۷۶/۳،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026