نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںوکیل کے لیے مؤکل کے مال کو بغیر مؤکل کی اجازت کے استعمال کرناجائز نہیں ،لہذا اگر کسی آدمی نے کسی دوسرے آدمی کو پیسے دے کر کہا کہ یہ پیسے زکوۃ کے ہیں کسی مستحق کو دے دینا،تو وکیل کو خود مستحق ہونے کی صورت میں اس کو استعمال کرنا مؤکل کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے ۔
الدرالمختار:
وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت
(الزكاة،۲۶۹/۲،دارالفکر)
حاشيةالطحطاوی:
وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت
(قوله الا اذا قال ربهاالخ)يعني وكان مصرفا لها والا لا ولو قاله
(الزكوة،۱۷۰/۳،الوحيدية)
الفقه الاسلامي:
وللوكيل أن يدفع الزكاة لولده الفقير أو زوجته الفقيرة إذا لم يأمره بالدفع إلى شخص معين، ولا يجوز له أن يأخذ الزكاة لنفسه إلا إذا قال له الموكل: ضعها حيث شئت.
(في اداء الزكاة،۱۹۷۶/۳،دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔