سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-741 Fatwa no: 1448-741

یونین کونسل میں تین طلاقیں درج کروانے کی صورت میں بیوی کے لیے شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی اپنی بیوی سے لڑائی اور ناراضگی تھی تو اس شخص نے یونین کونسل میں بیوی کیلئے طلاق نامہ جمع کروایا جس میں تین طلاقیں درج تھی اور بیوی سے کوئی بات نہیں کی پھر عدالت سے بیوی کو اطلاع ملی کہ آپ کے خاوند نے آپ کو تین طلاقیں دی ہیں جس کا طلاق نامہ ہمارے پاس آیا ہوا ہے تو اس صورت میں بیوی کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب :

بصورت مسئولہ اگر واقعتاًشوہر ہی نے طلاق نامہ یونین کونسل میں جمع کروا یاہے اور اس میں تین طلاقیں درج ہیں تو اس  صورت  میں اس کی   بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو  چکی ہیں جس کے بعد  نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی  دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا  جائزہے، إلا يہ کہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعدکسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے  ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو  پھرعدت گزارنے كے بعد عورت  پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔
كما في الدر المختار:
كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى.... ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة.
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:247،ط: دار الفكر)
وفي رد المحتار:
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب....... وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة...... ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة.....وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق مالم يقر أنه كتابه.      
 (كتاب الطلاق،ج:3،ص:247،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026