سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-76 Fatwa no: 1447-76

شوہر کے متعدد مکانات کی صورت میں عورت عدت کہا گزارے ؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہوجائے اور فوتگی کسی ہسپتال میں ہو اور عورت کے خاوند کے ملکیتی گھر تین ہوں تو کیا یہ عورت اپنے خاوند کے گھروں میں سے یکے بعد دیگرے کسی ایک گھر منتقل ہوسکتی ہے ، مطلب یہ کہ ایک یا دو ہفتے ایک گھر میں پھر ایک یا دو ہفتے دوسرے گھر میں پھر ایک یا دو ہفتے تیسرے گھر میں عدت کے طور پر گزار سکتی ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ عورت کو عدت اس مکان میں گزارنا ضروری ہے جہاں رہتے ہوئے اس کے شوہر کا انتقال ہوا ہو ، لہذا صورت مسئولہ میں  شوہر کی وفات کے وقت مذکورہ عورت شوہر کےجس گھر میں سکونت پذیر تھی ،اسی گھر میں عدت گزارنا ضروری ہے ،یکے بعد دیگرے شوہر کے دوسرے گھروں میں عدت بغیر کسی معقول عذر کےگزارنا شرعا درست نہیں ۔    
كما في ردالمحتار على الدر المختار:
(وَتَعْتَدَّانِ) أَيْ مُعْتَدَّةُ طَلَاقٍ وَمَوْتٍ (فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) وَلَا يَخْرُجَانِ مِنْهُ (إلَّا أَنْ تُخْرَجَ أَوْ يَتَهَدَّمَ الْمَنْزِلُ، أَوْ تَخَافُ) انْهِدَامَهُ، أَوْ (تَلَفَ مَالِهَا، أَوْ لَا تَجِدَ كِرَاءَ الْبَيْتِ) وَنَحْوَ ذَلِكَ مِنْ الضَّرُورَاتِ فَتَخْرُجُ لِأَقْرَبِ مَوْضِعٍ إلَيْهِ.
(فصل فى الحداد،ج3،ص536،ط:ايچ ايم سعيد)
وفى الهندية:
على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي.
لو كانت زائرة أهلها أو كانت في غير بيتها لأمر حين وقوع الطلاق انتقلت إلى بيت سكناها بلا تأخير وكذا في عدة الوفاة كذا في غاية البيان.
(الباب الرابع عشرفى الحداد،ج2،ص530،ط:مكتبة رشيدية)
وفى الهداية:
وَعَلَى الْمُعْتَدَّةِ أَنْ تَعْتَدَّ فِي الْمَنْزِلِ الَّذِي يُضَافُ إلَيْهَا بِالسُّكْنَى حَالَ وُقُوعِ الْفُرْقَةِ وَالْمَوْتِ) لِقَوْلِهِ تَعَالَى {لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ} [الطلاق: 1] وَالْبَيْتُ الْمُضَافُ إلَيْهَا هُوَ الْبَيْتُ الَّذِي تَسْكُنُهُ، وَلِهَذَا لَوْ زَارَتْ أَهْلَهَا وَطَلَّقَهَا زَوْجُهَا كَانَ عَلَيْهَا أَنْ تَعُودَ إلَى مَنْزِلِهَا فَتَعْتَدَّ فِيهِ وَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِلَّتِي قُتِلَ زَوْجُهَا "اُسْكُنِي فِي بَيْتِك حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَه."
(فصل فى الحداد،ج2،ص434،ط:مكتبة الحسن)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب