سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-742 Fatwa no: 1448-742

تین تولہ سونے کی گزشتہ سالوں کی زکوۃ دینےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
كيا فرماتےہيں مفتیان كرام اس مسئلہ كے بارے ميں كہ ایک شخص نے 1998 سے 2020تک 3تولہ سونے کی زکوۃ نہیں دی ہے او ر اب دینا چاہتا ہے تو اس کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب :

سونے کا نصاب جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہو وہ ساڑھےسات تولہ سونا ہےلہذا اگر کسی شخص کے پاس صرف 3 تولہ سونا ہو اوردیگر چاندی،نقدی ، مال تجارت اورضرورت سے زائد سامان  وغیرہ موجود نہ ہو  تو اس سونے پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی،اور اگراس کے پاس چاندی،نقدی ، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد سامان وغیرہ  موجود ہو تو ان سب کی قیمت لگا ئے اگر قیمت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ)کو پہنچتی ہے تو اس میں اڑھائی فیصد زکوۃ واجب ہوگی،اور زکوۃ کی ادائیگی میں ادائیگی والے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا،    اور جب گزشتہ  کئی سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کرنی ہو تواس صورت میں اول پہلے سال کی زکوۃ ادا کی جائے گی پھر بقیہ مال میں سے اسے منہا کرنے کے بعد دوسرے سال کی زکوۃ ، پھر اسی طرح آخر تک تمام سالوں کی زکاۃ ادا کی جائے گی۔
صوررت مسئولہ  اگر شخص مذکور  کے پاس ان گزشتہ سالوں میں  3تولہ سونا کے علاوہ اور  چاندی،نقدی ، مال تجارت اورضرورت سے زائد سامان  وغیرہ موجود نہیں تھا تو اس  پر زکوہ واجب نہیں ہوتی ،اوراگر اس کے پاس (چاندی،نقدی ، مال تجارت اورضرورت سے زائد سامان )موجود تھا   اور قیمت  چاندی کےنصاب کو پہنچتی تھی،  تو زکوۃ کی ادائیگی  میں ادائیگی   والے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا،اور گزشتہ سالو ں کی زکوۃ  ادا کرنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ سب سے پہلے1999  کی زکوۃ ادا کی جائے گی ،اس کے جو قیمت بچ جائے تو اس سے  سال2000 کی زکوۃ  منہا کی جائےگی، پھر اسی طرح ہر سال کی زکوۃ منہا کر کے جو باقی قیمت بچ  جائےتو اس میں سے اگلے سال کی زکوۃ کا حساب کرتا جائے اور اس طرح تمام سالوں کی زکاۃ ادا کرلے۔
كمافي نور الإيضاح:
ونصاب الذهب عشرون مثقالا وهي تعادل تقريبا 1015 غ فمن ملك نصابا من أحد النقدين وجب عليه إخراج ربع العشر زكاة له وربع العشر نصف مثقال من الذهب وخمسة دراهم من الفضة.
 (ص:126،ط:دار الحكمة)
و في الفقه الاسلامي و ادلتة:
تجب الزكاة كما عرفنا بالإجماع في الذهب إذا كان عشرين مثقالاً (ديناراً) قيمتها مئتا درهم. أما ما دون العشرين مثقالاً، فلا زكاة فيه إلا أن يتم بورِق (فضة) أو عروض تجارة.وأجمع العلماء على أنه إذا كان أقل من عشرين مثقالاً، ولا يبلغ مئتي درهم، فلا زكاة فيه لعدم بلوغ النصاب، وقال عامة الفقهاء: نصاب الذهب عشرون مثقالاً من غير اعتبار قيمتها ولا تقديرها بالفضة.
(ج:3،ص:1823،ط:المكتبة الإسلامية)
و في البناية شرح الهداية:
وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة حتى يتم النصاب " لأن الوجوب في الكل باعتبار التجارة وإن افترقت جهة الإعداد " ويضم الذهب إلى الفضة " للمجانسة من حيث الثمنية ومن هذا الوجه صار سببا ثم يضم بالقيمة عند أبي حنيفة رحمه الله وعندهما بالأجزاء وهو رواية عنه.
(ج:2،ص:364،ط: دار الكتب العلمية)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
ثم عند أبي حنيفة تعتبر القيمة يوم الوجوب، وعندهما يوم الاداء.
(ج:2،ص:400،ط:دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026