سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-744 Fatwa no: 1448-744

مشترکہ زمین کے مقدمے کے اخراجات کی وصولی تک شریک کا حصہ روکنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
دو آدمیوں نے مشترکہ طور پر زمین خریدی ،پھر ایک تیسرے شخص نے اس جگہ کا دعوی کیا ،کہ یہ میری جگہ ہے ،تو ان دو آدمیوں میں سے ایک نے اس پر کیس کیا ،اور اس کے جھوٹے دعوے کو ختم کردیا ،اس کے بعد دوسرے شریک نے کہا کہ اس جگہ میں میرا جتنا حصہ بنتا ہے وہ مجھے دے دو ،تو جس نے کیس لڑا ہے اس نے کہا کہ تیرا حصہ تب ملے گا ، کہ جو میں نے کیس لڑنے پر خرچے کیے ہیں وہ ادا کریں ، یعنی آدھا خرچہ تم پر ہوگا اور آدھا خرچہ مجھ پر آئے گا ،تو اس صورت میں اگر کیس لڑنے والا کیس کے اخراجات ملنے تک دوسرے سے زمین کو روک دے ، تو یہ فعل اس کے لئے جائز ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ عقد شرکت میں چونکہ ہر ایک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے ،لہذا شرکت کے ہر نفع نقصان میں دونوں اپنے حصے  کے بقدر شریک ہونگے ،  بصورت مسؤلہ چونکہ زمین مشترکہ   طور پر خریدی گئی تھی  اس لیے  جس شخص نے  کیس کے اخراجات برداشت کیے ہیں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ دوسرے شریک سے   اس کے حصہ کے بقدر کیس کے   اخراجات کا عوض  طلب کرے ،  لہذا  جب تک وہ کیس کے اخراجات ادا نہیں  کرتا ، تو   دوسرے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس وقت تک اس  کا حصہ روک کر رکھے ،اور جب وہ کیس   کے اخراجات ادا کر دے، تو  اس  کا  حصہ بھی  اس کو واپس کر دے ۔
وفي الدر المختار:
 (ويرجع على شريكه بحصته منه إن أدى من مال نفسه) أي مع بقاء مال الشركة وإلا فالشراء له خاصة لئلا يصير مستدينا على مال الشركة بلا إذن بحر -(وتبطل) الشركة (بهلاك المالين أو أحدهما قبل الشراء) والهلاك على مالكه قبل الخلط وعليهما بعده.
(ج:4،ص:314،ط: دار الفكر)
وفي الهداية:
وما اشتراه كل واحد منهما للشركة طولب بثمنه دون الآخر لما بينا أنه يتضمن الوكالة دون الكفالة والوكيل هو الأصل في الحقوق  قال ثم يرجع على شريكه بحصته منه معناه إذا أدى من مال نفسه لأنه وكيل من جهته في حصته فإذا نقد من مال نفسه رجع عليه.
(مطلب في تحقيق حكم التفاضل في الربح،ج:3،ص:8،ط: دار الفكر)
وفي الفتاوى الهندية:
رجلان اشتريا من رجل عبدا بألف درهم فغاب أحدهما وحضر الآخر فليس له أن يقبض شيئا من العبد ما لم ينقد الثمن جملة فإن أوفى جميع الثمن قبض العبد كله ولا يكون متطوعا فإذا حضر الغائب ليس له أن يقبض حصته حتى يدفع إلى الحاضر ما نقده من حصته فإذا فعل ذلك قبض نصيبه كذا في المحيط.
(الفصل الأول في حبس:،ج:3،ص:15،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026