نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ عقد شرکت میں چونکہ ہر ایک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے ،لہذا شرکت کے ہر نفع نقصان میں دونوں اپنے حصے کے بقدر شریک ہونگے ، بصورت مسؤلہ چونکہ زمین مشترکہ طور پر خریدی گئی تھی اس لیے جس شخص نے کیس کے اخراجات برداشت کیے ہیں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ دوسرے شریک سے اس کے حصہ کے بقدر کیس کے اخراجات کا عوض طلب کرے ، لہذا جب تک وہ کیس کے اخراجات ادا نہیں کرتا ، تو دوسرے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس وقت تک اس کا حصہ روک کر رکھے ،اور جب وہ کیس کے اخراجات ادا کر دے، تو اس کا حصہ بھی اس کو واپس کر دے ۔
وفي الدر المختار:
(ويرجع على شريكه بحصته منه إن أدى من مال نفسه) أي مع بقاء مال الشركة وإلا فالشراء له خاصة لئلا يصير مستدينا على مال الشركة بلا إذن بحر -(وتبطل) الشركة (بهلاك المالين أو أحدهما قبل الشراء) والهلاك على مالكه قبل الخلط وعليهما بعده.
(ج:4،ص:314،ط: دار الفكر)
وفي الهداية:
وما اشتراه كل واحد منهما للشركة طولب بثمنه دون الآخر لما بينا أنه يتضمن الوكالة دون الكفالة والوكيل هو الأصل في الحقوق قال ثم يرجع على شريكه بحصته منه معناه إذا أدى من مال نفسه لأنه وكيل من جهته في حصته فإذا نقد من مال نفسه رجع عليه.
(مطلب في تحقيق حكم التفاضل في الربح،ج:3،ص:8،ط: دار الفكر)
وفي الفتاوى الهندية:
رجلان اشتريا من رجل عبدا بألف درهم فغاب أحدهما وحضر الآخر فليس له أن يقبض شيئا من العبد ما لم ينقد الثمن جملة فإن أوفى جميع الثمن قبض العبد كله ولا يكون متطوعا فإذا حضر الغائب ليس له أن يقبض حصته حتى يدفع إلى الحاضر ما نقده من حصته فإذا فعل ذلك قبض نصيبه كذا في المحيط.
(الفصل الأول في حبس:،ج:3،ص:15،ط: دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔