نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے ہے کہ اکاؤنٹ دو قسم کے ہوتے ہیں ،(1) ریٹیلر اکاؤنٹ ،(2) ذاتی اکاؤنٹ ۔
(1)ریٹیلر اکاؤنٹ میں کمپنی نے ریٹیلر کو کسٹمرز کی رقوم بھیجنے اورنکلوانے کے لئے باقاعدہ طور پر ڈیوائس دے رکھی ہوتی ہے ریٹیلر کی حیثیت کمپنی اور کسٹمر کے درمیان ایک ایجنٹ کی ہوتی ہے،اور کمپنی کی طرف سے ریٹیلر کو اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کسٹمر سے پیسے بھیجنے اور نکلوانے کی صورت میں کچھ چارجز وصول کرے ،البتہ اگر پیکج لگانے پرکمپنی کیطرف سے اضافی رقم لینے کی اجازت ہوتواضافی رقم لینا جائز ہے،بصورت دیگر نہیں ۔
صورت مسئولہ میں اگر آپ کا اکاؤنٹ ریٹیلر ہے اور کمپنی کی طرف سے آپ کو پیکج لگانے پرگاہک سےاضافی رقم لینے کی اجازت نہ ہو تو آپ کے لئے گاہک سےاضافی رقم لینا شرعاً جائز نہیں ،اوراگر کمپنی نےآپ کو پیکج لگانے پر اضافی رقم لینے کی اجازت دی ہے تو اس صور ت میں آپ کے لیے پیکج لگانے پر اضافی رقم کا لینا شرعاًجائز ہے،بشرطیکہ کہ گاہک کو دھوکہ نہ دیا گیا ہو (یعنی اسے یہ نہ کہا ہو کہ یہ پیکج بارہ سو کا ہی ہے اور میں آپ کو بارہ سو کا لگا کر دیتا ہوں ،کیونکہ یہ جھوٹ اور دھوکے کے زمرے میں آتا ہے اور احادیث مبارکہ میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کی ممانعت آئی ہے)،اور اسی طرح آپ کے پاس بیلنس نہ ہونے کی صورت میں آپ نے اپنےدوست سے پیکج لگوانے پر پہلے سےیہ بات طے کی ہوئی ہے کہ میں تمہیں نمبر بھیجوں گا اورتم پیکج لگانا میں اس پر تمہیں متعین نفع دونگا اور باقی پیسےخود رکھوں گا،تو اس صورت میں آپ کا باقی پیسے خود رکھنا جائز ہے ۔
(2)ذاتی اکاؤنٹ میں چونکہ کمپنی کے ساتھ کوئی معاہدہ وغیرہ نہیں ہوتا اس لئےذاتی اکاؤنٹ سے پیکج لگانے کی صورت میں اضافی رقم لینا جائز ہے،بشرطیکہ کہ گاہک کو دھوکہ نہ دیا گیا ہو۔
قال تبارك وتعالي:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29).
(النساء،29:4)
وفي الصحيح للبخاري:
عن أبي هريرة عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: " آية المنافقِ ثلاثٌ: إِذا حدَّث كذَب، وِإذا وعدَ أَخلفَ، وِإذا اْؤتمِنَ خانَ".
(ج:1،ص:29،ط:مكتبة المعارف للنشر والتوزيع)
وفي سنن الدارقطني:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ , وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ».
(كتاب البيوع،ج:3 ،ص:426 ،ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)
في رد المحتار على الدر المختار:
مطلب في أجرة الدلال تتمة قال في التاترخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم...
(مطلب في أجرة الدلال،ج:6،ص63،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الإسلامي:
بيع السمسرة: السمسرة: هي الوساطة بين البائع والمشتري لإجراء البيع. والسمسرة جائزة، والأجر الذي يأخذه السمسار حلال؛ لأنه أجر على عمل وجهد معقول.
(ج:٥،ص:٣٣٢٦،ط:دارالفكر)
وفي مجلة الأحكام العدلية:
(الْمَادَّةُ 424) : الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ لَا يَسْتَحِقُّ الْأُجْرَةَ إلَّا بِالْعَمَلِ.
(ج:1،ص:82،ط:نور محمد)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔