سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-746 Fatwa no: 1448-746

بیوی سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم اور قریب جانے پر طلاق کی تعلیق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ" میں اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کروں گا" اور اگر میں اس کے قریب گیا تو وہ فارغ ہے،اب نہ اس نے بیوی کے ساتھ ہمبستری کی ہے اور نہ ہی وہ بیوی کےقریب گیاہے،اس بات کو تقریباً چار ماہ گزر چکےہیں،اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ"اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ چار  مہینے ہمبستری نہیں کروں گا" یا یہ کہے کہ" میں تمہارے ساتھ ہمبستری نہیں کروں گا"یہ شرعاً ایلاء ہے اور ایلاء کا حکم یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے اندر اندر اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرےگا توکفارہ  یمین لازم ہوگا اور اگر ہمبستری نہ کرے تو چار ماہ گزرنے کے بعد بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔
صورت مسئولہ  میں مذکورہ الفاظ کےبعدچار ماہ تک  ہمبستری نہ کرنے کی وجہ سے شخص مذکور کی بیوی  پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے ۔
نیز شخص مذکورنے جو یہ شرط (اگر میں اس کے قریب  گیا تو وہ فارغ ہے) لگائی ہےوہ طلاق بائن واقع ہونے کی وجہ سے باطل ہوگئی ہے،البتہ اگر دونوں میاں بیوی نکاح جدید کرکے ہمبستری کرلیں ،تو قسم (شوہر کا یہ کہنا کہ  اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کروں گا)توڑنے کی وجہ سےشوہر پر کفارہ یمین لازم ہوگا۔ 
کفارہ یمین دس مسکینوں کو صبح شام متوسط درجہ کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کوکپڑا دینا ہے ان دونوں میں ایک کے کرنے کا اختیار ہے البتہ اگر ان دونوں میں سے کسی پر بھی قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھےگا۔
كما في قوله تعالي تعالي:
لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فاؤُ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ.
(سورة البقرة،٢٢٦:٢)
وفي كنز الدقائق:
هو الحلف على ترك قربانها أربعة أشهرٍ أو أكثر كقوله والله لا أقربك أربعة أشهرٍ أو والله لا أقربك فإن وطئها في المدّة كفّر وسقط الإيلاء وإلّا بانت وسقط اليمين لو حلف على أربعة أشهرٍ وبقيت لو على الأبد فلو نكحها ثانيًا وثالثًا ومضت المدّتان بلا فيءٍ بانت بأخريين ولو نكحها بعد زوجٍ آخر لم تطلق ولو وطئها كفّر لبقاء اليمين.
(باب الإيلاء،ج:١،ص:٢٩١،ط:دار البشائر الإسلامية)
وفي الاختيار لتعليل المختار:
بَابُ الْإِيلَاءِ: إِذَا قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَقْرَبُكِ، أَوْ لَا أَقْرَبُكِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ فَهُوَ مُولٍ، وَكَذَلِكَ لَوْ حَلَفَ بِحَجٍّ أَوْ صَوْمٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ عِتْقٍ أَوْ طَلَاقٍ، فَإِنْ قَرَبَهَا فِي الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ حَنِثَ، وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ وَبَطَلَ الْإِيلَاءُ، وَإِنْ لَمْ يَقْرَبْهَا وَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ بَانَتْ بِتَطْلِيقَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْيَمِينُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ فَقَدِ انْحَلَّتْ، وَإِنْ  كَانَتْ مُؤَبَّدَةً فَإِنْ عَادَ فَتَزَوَّجَهَا عَادَ الْإِيلَاءُ عَلَى الْوَجْهِ الَذِي بَيَّنَّا، فَإِنْ وَطِئَهَا فِي الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ مِنْ وَقْتِ التَّزَوُّجِ حَنِثَ وَإِلَّا وَقَعَتْ أُخْرَى، فَإِنْ عَادَ فَتَزَوَّجَهَا فَكَذَلِكَ، فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ زَوْجٍ آخَرَ فَلَا إِيلَاءَ، فَإِنْ وَطِئَ كَفَّرَ لِلْحِنْثِ، وَأَقَلُّ مُدَّةِ الْإِيلَاءِ فِي الْحُرَّةِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ.
(باب الإيلاء،ج:٣،ص:٣٥١،ط:القاهرة)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026