سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-747 Fatwa no: 1448-747

مہتمم کا اپنی زکوٰۃ مدرسے کے اخراجات میں خرچ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے بنات کا ایک غیررہائشی مدرسہ بنایا ہے اور دو اساتذہ اور ایک استانی رکھی ہے اب مدرسے کے جملہ اخراجات جن میں بجلی گیس بلز اور مدرسے کے اندر جتنی بھی ضروریات ہوں اور اس کے علاوہ اساتذہ اور استانی کی تنخواہ وہ جیب سے ادا کرتا ہوں اپنی زکوۃ سےباہر کسی سے کوئی فنڈ نہیں لیتا، میں اپنی زکوۃ ادا کرنے کے لیے یہ ساری چیزیں خود ہی کرتا رہتا ہوں کیا اس طریقے سے میری زکوۃ ادا ہو جائے گی؟ برائے کرم شرعیت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔
جواب :

اساتذہ  کوتنخواہ میں زکوۃ کی رقم  دینا جائز نہیں ہے کیونکہ زکوۃ  کی رقم میں فقیر کو بلاعوض  مالک بنانا  ضرور ی ہوتا ہے ،لہذا  صورت مسئولہ میں اساتذہ اور استانی کو پڑھانے   کے عوض اپنی زکوۃ کی رقم سے تنخواہ دینے  سےآپ کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی،   البتہ اپنی زکوۃ کی رقم مدرسہ کی ضروریات  میں خرچ کرنے کی یہ صورت اختیار کریں کہ آپ  مستحق طلباء  کو اپنی زکوۃ کا مالک بنا دیں  (مالک بنانے کی وجہ سے آپ کی زکوۃ ادا ہوجائے گی)اورپھر    وه طلباء اپنی  مرضی سے وہ رقم  آپ کوہبہ کر دیں یا آپ کومدرسہ کی ضروریات میں خرچ کرنے کاباکلیہ وکیل بنادیں  تواس کے بعد آپ اس رقم کو طلباء کرام،مدرسہ کی ضروریات  اور اساتذہ کرام کی تنخواہوں میں استعمال کرسکتے ہیں۔
كما في الفتاوي الهندية:
فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى هذا في الشرع.
(كتاب الزكاة،ج:١،ص:١٧٠،ط:دارالفكر)
وفي رد المحتار على الدر المختار:
ولو دفعها المعلم لخليفته إن كان بحيث يعمل له لو لم يعطه وإلا لا.
وفي تحته:
(قوله: وإلا لا) أي؛ لأن المدفوع يكون بمنزلة العوض.
(فروع في مصرف الزكاة،ج:٢،ص:٣٥٦،ط:دارالفكر)
وفی  فتاوی دارالعلوم ديوبند:
معلم كو تنخواہ میں زکوۃ کا روپیہ دینا درست نہیں زکوۃ بلا کسی عوض معاوضہ تعلیم وغیرہ کے مسکین اور غرباء کو دینا اور ان کو مالک بنانا ضروری ہے۔
(ج:٦،ص:١٤٤،ط:دارالاشاعت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026