سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-748 Fatwa no: 1448-748

واجب قربانی چھوڑ کر والدین کی طرف سے قربانی کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص پر قربانی واجب ہےلیکن وہ اپنی قربانی نہیں کرتا بلکہ اپنےمرحوم والدین کی طرف سے کرتا ہے توکیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں جب شخص مذکور پر اپنی قربانی واجب ہے تواس پرلازم ہے کہ  پہلےاپنی قربانی کرےلیکن اگر وہ اپنی طرف سے نہیں کرتا  اور اپنے پیسوں سے قربانی خرید کروالدین کی طرف سے قربانی کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اس کی اپنی قربانی اداہو جائے گی جیسا کہ:.
فتاوی کفایت المفتی میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے۔
(از مفتی اعظم رحمہ اللہ)جس شخص نے اپنے مال سے میت کی جانب سے قربانی کی ہے اگر ااس پر بھی قربانی واجب تھی تو یہ قربانی اس کی اپنی طرف  سے ہو جائے گی اور میت کو ثواب نہ ملے گا،اور اگر اس پر قربانی واجب نہ تھی یا اپنی قربانی جدا کر چکا تھا تو میت کی طرف سے قربانی درست ہوجائے گی یعنی میت کو قربانی کا ثواب مل جائے گا۔(ج:8،ص:205)
كما في الهداية:
الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى عن نفسه.
(كتاب الأضحية،ج:٤،ص:٣٥٥،ط:بيروت)
وفي رد المحتار على الدر المختار:
وعن ميت بالأمر الزم تصدقا ... وإلا فكل منها وهذا المخبر.
وفي تحته:
(قوله وعن ميت) أي لو ضحى عن ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصدق بها وعدم الأكل منها، وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت، ولهذا لو كان على الذابح واحدة سقطت عنه أضحيته كما في الأجناس. قال الشرنبلالي: لكن في سقوط الأضحية عنه تأمل اهـ. أقول: صرح في فتح القدير في الحج عن الغير بلا أمر أنه يقع عن الفاعل فيسقط به الفرض عنه وللآخر الثواب فراجعه.
(ج:٦،ص:٣٣٥،ط:دارالفکر)
وفيه ايضا:
من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح. قال الصدر: والمختار أنه إن بأمر الميت لا يأكل منها وإلا يأكل بزازية، وسيذكره في النظم (قوله وإن كان شريك الستة نصرانيا إلخ) وكذا إذا كان عبدا أو مدبرا يريد الأضحية لأن نيته باطلة لأنه ليس من أهل هذه القربة فكان نصيبه لحما فمنع الجواز أصلا بدائع.
(ج:٦،ص:٢٢٦،ط:دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026