نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںاگر کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح اٹھارہ سال سے کم عمر میں کرواتا ہے تو شریعت میں وہ گناہگار نہیں ہوگا ،باقی پاکستان میں جو حالیہ قانون اٹھارہ سال سے کم عمر شادی پرپابندی کاپاس ہوا ہے وہ اسلامی تعلیما ت کے خلاف ہے شرعا ًاس قانون کی پابندی لازم نہیں ہے۔
کما مصنف إبن ابي شيبة:
عَنْ، هِشَامٍ، عَنْ، أَبِيهِ، قَالَ: «تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ , ثُمَّ نَكَحَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ , ثُمَّ بَنَى بِعَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ».
(باب الكني،ج:٧،ص:٢٦،ط:مكتبة الرشد)
وفي سنن إبن ماجه:
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ...الخ
(كتاب النكاح،ج:٣،ص:٧٥،ط:مكتبة أبي المعاطي)
وفي رد المحتار على الدر المختار:
وتجب طاعة الإمام عادلا كان أو جائرا إذا لم يخالف الشرع.
(باب البغاة،ج:٤،ص:٢٦٣،ط:دار الفكر)
وفي مجمع الأنهر:
طَاعَةَ الْإِمَامِ فَرْضٌ وَإِلَى أَنَّ الْإِمَامِ لَا يُطَاعُ فِي مَعْصِيَةٍ بِالنَّصِّ وَالْإِجْمَاعِ.
(باب البغاة،ج:١،ص:٦٩٩،ط:دار إحياء التراث العربي)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔