سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-749 Fatwa no: 1448-749

اٹھارہ سال سے کم عمر بالغ لڑکی کے نکاح اور ملکی قانون کی پابندی کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : پاکستان میں شادی کی حالیہ قانون کے حوالے سے اگر کوئی اٹھارہ سال سے کم عمر بچی کا نکاح کرائے اور وہ بالغ ہوچکی ہو، مباشرت کے قابل بھی ہو،تو وہ قانونی مجرم ہے لیکن کیا شرعاً بھی وہ قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے مجرم شمار ہوگا؟
جواب :

اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح اٹھارہ سال سے کم عمر میں کرواتا ہے تو شریعت میں وہ گناہگار نہیں ہوگا ،باقی پاکستان میں جو حالیہ  قانون اٹھارہ سال سے کم عمر شادی  پرپابندی کاپاس ہوا ہے وہ اسلامی تعلیما ت کے خلاف ہے شرعا ًاس قانون کی پابندی لازم نہیں ہے۔ 
کما مصنف إبن ابي شيبة:
عَنْ، هِشَامٍ، عَنْ، أَبِيهِ، قَالَ: «تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ , ثُمَّ نَكَحَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ , ثُمَّ بَنَى بِعَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ».
(باب الكني،ج:٧،ص:٢٦،ط:مكتبة الرشد)
وفي سنن إبن ماجه:
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ...الخ
(كتاب النكاح،ج:٣،ص:٧٥،ط:مكتبة أبي المعاطي)
وفي رد المحتار على الدر المختار:
وتجب طاعة الإمام عادلا كان أو جائرا إذا لم يخالف الشرع.
(باب البغاة،ج:٤،ص:٢٦٣،ط:دار الفكر)
وفي مجمع الأنهر:
طَاعَةَ الْإِمَامِ فَرْضٌ وَإِلَى أَنَّ الْإِمَامِ لَا يُطَاعُ فِي مَعْصِيَةٍ بِالنَّصِّ وَالْإِجْمَاعِ.
(باب البغاة،ج:١،ص:٦٩٩،ط:دار إحياء التراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026